28

18 برس سے زیرِتحقیق سمندری جہاز کے ملبے کی حقیقت سامنے آگئی

نیویارک(نیوزمارٹ ڈیسک) 18 برس سے ماہرین کے زیرِ مطالعہ جہاز کے ملبے کے متعلق حقیقت بالآخر سامنے آگئی، ماہرین کے مطابق یہ امریکا کا وہیل کا شکار کرنے والا جہاز تھا (انہیں وہیلر کہا جاتا تھا) جو 1859ءمیں کھو گیا تھا۔ملبے کی سڑتی ہوئی لکڑیوں میں موجود درخت کے چھلوں کے نئے تجزیے سے معلوم ہوا کہ یہ ڈولفن نامی جہاز کا ڈھانچہ ہے جو ارجنٹینا کے ساحل پر ڈوب گیا تھا۔سائنس دانوں نے چھلوں کا ڈیٹا بیس استعمال کرتے ہوئے بتایا کہ یہ درخت نیو انگلینڈ اور جنوب مشرقی امریکا میں 111 فٹ لمبے اس جہاز کی 1850ءمیں تعمیر سے کچھ عرصہ قبل گرائے گئے تھے۔لوہے کی دیگچیاں اور دیگر اشیائ جو وہیل کی چربی کو ابالنے کے لیے استعمال کی جاتی تھیں انہیں باقیات کے نزدیک دریافت ہوئیں۔ یہ بھی اس بات کی جانب اشارہ کرتی ہیں کہ یہ جہاز وہیل کا شکار کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں