48

پاسپورٹ میں تبدیلی کا مطلب اسرائیل کے لیے سفری پابندی ہٹانا، پالیسی میں تبدیلی نہیں: بنگلہ دیشی وزارتِ

پاسپورٹ کی عبارت میں تبدیلی کا مطلب اسرائیل کے لیے سفری پابندی ہٹانا، پالیسی میں تبدیلی نہیں: بنگلہ دیشی وزارتِ
بنگلہ دیش کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے اتوار کے روز ایک بیان میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ نئے جاری کردہ ای پاسپورٹس میں عبارت ’ یہ پاسپورٹ اسرائیل کے علاوہ تمام ممالک کے لیے موزوں ہے‘ تبدیل کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس نے اسرائیل پر سے اپنی سفری پابندی ہٹا دی ہے۔
سنیچر کے روز اسرائیلی وزارتِ خارجہ کے ایک اہلکار جیلاڈ کوہین کی جانب سے ایک ٹویٹ میں ایک خبر شیئر کی گئی تھی جس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ بنگلہ دیش نے کیونکہ اپنے پاسپورٹس پر عام طور شائع ہونے والی عبارت کو تبدیل کر دیا ہے اس لیے درحقیقت اس نے اسرائیل پر لگائی جانے والی اپنی سفری پابندی ہٹا دی ہے۔
بنگلہ دیش اقوامِ متحدہ کے ان 18 رکن ممالک میں سے ہے جو اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتے اور یہ ان متعدد ممالک میں سے ہے جہاں کے شہریوں کے لیے اسرائیل جانے کی سفری پابندی عائد ہے۔
خیال رہے کہ بنگلہ دیش کے پاسپورٹ پر اس سے قبل ایک عبارت درج ہوتی تھی کہ ’یہ پاسپورٹ اسرائیل کے سوا دنیا کے تمام ممالک کے لیے موزوں ہے۔‘ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ایشیا اور پیسیفک جیلاڈ کوہین نے اسے ایک خوش آئند خبر قرار دیتے ہوئے ٹویٹ کیا تھا کہ ’مجھے امید ہے کہ اب بنگلہ دیشی حکومت ایک قدم آگے بڑھ کر اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرے گی تاکہ دونوں ممالک کے لوگوں کو اس سے فائدہ ہو سکے۔‘اس پیشرفت کے سامنے آنے کے بعد سے سوشل میڈیا پر بنگلہ دیش ٹرینڈ کر رہا ہے اور یہ تاثر لیا جا رہا تھا کہ بنگلہ دیش کی جانب سے اسرائیل کے لیے سفری پابندی ختم کر دی گئی ہے۔تاہم اتوار کو اپنے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے بنگلہ دیشی وزارت خارجہ نے ایک اعلامیہ جاری کیا جس میں کہا گیا کہ ’اس عبارت کو تبدیل کرنے کا مقصد ای پاسپورٹس کو بین الاقوامی معیار کے مطابق رکھنا ہے اور اسرائیل کے سفر پر پابندی اب بھی برقرار ہے۔‘اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ ’مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ بنگلہ دیش کی خارجہ پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں ہو گی اور نہ ہی بنگلہ دیشی حکومت نے اسرائیل کے معاملے پر اپنے مؤقف سے انحراف کیا ہے۔ بنگلہ دیش اپنی طویل المدتی پوزیشن پر قائم رہے گا۔‘اعلامیے میں 11 روز تک جاری رہنے والے حالیہ اسرائیل فلسطین تنازع کے تناظر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’بنگلہ دیش کی حکومت نے غزہ اور مسجد الاقصیٰ کمپاؤنڈ میں موجود عام فلسطینی شہریوں پر اسرائیلی فوج کے مظالم کی مذمت کی ہے۔‘
’بنگلہ دیش اس ضمن میں اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں اسرائیل فلسطین تنازع کے دو ریاستی حل پر اپنی پوزیشن پر قائم ہے جس کے تحت 1967 سے پہلے موجود سرحدوں کا قیام اور مشرقی یروشلم کو فلسطین کا دارالحکومت قرار دینا شامل ہے۔‘یاد رہے کہ گذشتہ برس متحدہ عرب امارات سمیت مشرقِ وسطیٰ کے چار ممالک کی جانب سے اسرائیل کی حیثیت کو تسلیم کیا گیا تھا۔ ان ممالک میں متحدہ عرب امارات، مراکش، سوڈان اور بحرین شامل ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں