15

کوٹ رادھاکشن کے مسائل عوامی منتخب نمائندگان کی توجہ کے منتظر

تحریر۔۔ارشد منیر چوہدری

سال 2006ءمیں تحصیل کا درجہ حاصل کرنے والا شہر کوٹ رادھاکشن جوکہ پوری تحصیل میں واحد شہر ہے فی الوقت زبوں حالی کا شکار شہر نظر آتاہے۔ کسی بھی شہر کی ترقی و تنزلی کا سہرہ اس کے مقامی منتخب نمائندوں کے سر ہوتاہے۔ 2006ءمیں مقامی سیاستدان چیئرمین سٹینڈنگ کمیٹی پاکستان ریلوے و ایم این اے سردار طفیل احمد خاں جوکہ مسلم لیگ (ق) کے پلیٹ فارم پر منتخب ہوئے، انہوں نے سوئی گیس، واپڈا آفس، گریڈ اسٹیشن اور ریلوے اسٹیشن کی تزئین و آرائش کروائی۔ ان کے پیشرو ایم این اے راﺅ مظہر حیات خاں جوکہ مسلم لیگ ن کے پلیٹ فارم سے 2008ءکو منتخب ہوئے کوئی ایسا کام نہ کروا سکے ماسوائے کوٹ رادھاکشن تا قصور روڈ کی رپئیرنگ اورچند ایک سڑکوں کی تعمیر،جبکہ پی پی پی کے منتخب ایم پی اے ملک اختر حسین نول نے بھی اپنے پیش روں کی طرح شہر کیلئے کوئی بڑا کام نہ کر سکے۔ 2013ءکو مسلم لیگ ن کے پلیٹ فارم سے چوہدری سلمان حنیف خاں ایم این اے جبکہ محمد انیس قریشی ایم پی اے منتخب ہوئے اور انہوں نے مقدور بھر کاوشیں کیں، شہرکوٹ رادھاکشن کے بہت سارے ترقیاتی کام کروائے لیکن کوٹ رادھاکشن سے قصور روڈ جوکہ میگا پرابلم بن چکی تھی اس کی طرف دھیان نہ دیا، علاوہ ازیں اسی دور میں رائیونڈ تاکوٹ رادھاکشن روڈ بنی، ٹی ایچ کیو ہسپتال کی منظوری و بلڈنگ کا کام مکمل ہوا، لیکن کوٹ رادھاکشن کے شہریوں کا ایک بڑا مسئلہ ریلوے پھاٹک کا مسئلہ حل نہ ہوسکاجبکہ عوام کا مطالبہ ہے کہ انڈر پاس یا اوور بریج بنایا جائے تاکہ بسا اوقات گھنٹوں تک پھاٹک کی بندش سے پیدا ہونے والے مسائل سے بچا جاسکے۔ 2018ءکے اوائل میں ایم پی اے محمد انیس قریشی نے 20کروڑ کی خطیر رقم کوٹ رادھاکشن شہر کے ترقیاتی کاموں کیلئے منظور کروائی جس کا ایک بڑا حصہ استعمال نہ ہوسکا۔ علاوہ ازیں شہر میں مختلف سڑکات کو تعمیر کیا گیا اور اسی دوران ریسکیو 1122کی بلڈنگ کی تعمیر مکمل ہوئی۔2018ءمیں مسلم لیگ ن کے پلیٹ فارم سے ایم این اے ملک رشید احمد خاں اور ایم پی اے چوہدری محمد الیاس خاں گجر منتخب ہوئے جبکہ قومی و صوبائی حکومت پاکستان تحریک انصاف کی بنی جس سے منتخب اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کوئی بھی بڑا پروجیکٹ حاصل نہ کرسکے جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ ہولڈرقومی اسمبلی سردار راشد طفیل خاں اور صوبائی اسمبلی کے ٹکٹ ہولڈر اور داور حیات خاں بھی حکومت میں ہونے کے باوجود کوئی بھی میگا پراجیکٹ حاصل نہ کرسکے۔مختلف منتخب نمائندوں کی طرف سے عوام کو کوٹ رادھاکشن تا قصور روڈ کی تعمیر کی طفل تسلیاں دی جاچکی ہیں لیکن ہنوز کسی قسم کا کوئی عملی اقدام نہ اٹھایاگیاہے۔امسال ملک رشید احمد خاں ایم این اے 138نے قومی اسمبلی میں قصور تا کوٹ رادھاکشن روڈ اور دیگر سڑکات کی تعمیر کروانے کیلئے آواز بلند کی۔2021ءمیں ریونیو آفس و تحصیل کمپلیکس کی تعمیر کا آغاز ہواجوکہ نامکمل ہے۔ 2021ءمیں سردار راشد طفیل خاں نے سابقہ حکومت کے منظور شدہ فنڈ سے ترقیاتی کا موں کا سلسلہ شروع کیا جوکہ 2022ءمیں حکومت کی تبدیلی کے بعد مسلم لیگی منتخب نمائندوں ملک رشید احمد خاں ایم این اے اور چوہدری محمد الیاس خاں گجر ایم پی اے نے اندرون شہر چھوٹے پراجیکٹ شروع کروائے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ متعدد گاﺅ ں کو جانے والی سڑک پیمار اوتاڑ روڈ جوکہ ایک طویل عرصہ تک اہل علاقہ کیلئے بڑی تکلیف کا باعث بنی رہی پر بھی کام شروع ہونے جارہاہے۔ 2021ءمیں فی الوقت کوٹ رادھاکشن کے تمام داخلی راستے شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکارہیں، سیوریج سسٹم توجہ چاہتاہے۔ شہر میں کھیل کا کوئی میدان کھیل کے قابل نہ ہے، شہر کے ساتھ ملحق عثمان اسٹیڈیم کے نام سے ایک میدان موجودہے جس پر تھوڑی سی رقم لگا کر کھیلوں کے قابل بنایا جاسکتاہے، اسی طرح ریلوے ہاکی گراﺅنڈ اور خوبصورت پارکس میونسپل کمیٹی کی بے حسی کا شکارہوچکے ہیں۔سوئی گیس جوکہ ایک بہت بڑی سہولت ہے اس وقت نامعلوم وجوہات کی بنا ءپر اکثر و بیشتر بندش کا شکار ہے اور جب بندش نہیں ہوتی تب بھی پریشر انتہائی کم ہوتا ہے۔ تحصیل بھر کے چار لاکھ کے قریب باسی ضلعی ہیڈکوارٹر قصور تک جانے والی سڑک کی تعمیر ہونے کے منتظر اور کسی مسیحا کی تلاش میں ہیں۔اسی طرح DPS سکول جس کی منظوری قبل ازیں کوٹ رادھاکشن میں ہو چکی تھی گذشتہ سال کرنل ہاشم ڈوگر موجودہ وزیر داخلہ پنجاب نے یہاں سے اٹھا کر چونیاں میں منظور کروا لیا لیکن اس حوالہ سے کسی بھی پلیٹ فارم پر کسی نے آواز نہ اٹھائی ماسوائے میڈیا کے جس نے اس موضوع پر خبریں بنائیں لیکن کچھ نہ ہو سکا اور تحصیل کوٹ رادھاکشن DPS جیسے اعلیٰ معیار کے تعلیمی ادارے سے محروم ہو گئی۔ اسی طرح گورنمنٹ ڈگری کالج بوائز میں ڈگری کلاسز کا عرصہ دراز سے اجرائنہ سکا اور طلبہ کو لاہور، رائیونڈ یا دیگر شہروں کی طرف رخ کرنا پڑتا ہے۔اب الیکشن 2023ءکی آمد آمد ہے۔امید کی جاسکتی ہے کہ تمام اُمیدواران اور حکومتی و اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی کی خواہش ہے کہ آخری سال میں عوام کی فلاح و بہبود کیلئے منصوبے شروع کئے جائیں تاکہ دوبارہ عوام کے پاس جانے میں انہیں آسانی ہو اور وہ منہ دکھانے کے قابل ہو سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں