14

چمچے

تحریر۔۔راجہ شہزاد معظم
قارئین! اگرچہ میرے آج کے کالم کا موضوع عجیب و غریب ہے لیکن اسے آپ ضرور پڑھیں اس کے اختتام پر اگر آپ کو ادبی لطف اندوزی حاصل نہ ہوئی اور مزہ نہ آیا تو جتنے پیسوں کا آپ نے اخبار خریدا ہو گا وہ واپس۔۔۔۔چمچے کے لفظ سے آپ بخوبی واقف ہوں گے۔اگرچہ یہ لفظ ہئیت کے اعتبار سے برا سا لگتا ہے لیکن اس کے بے شمار فوائد ہیں۔آج اس کے چیدہ چیدہ استعمالات اور فوائد سے آپ کو ّآگاہ کروں گا۔چمچے کی انگریزی spoonہے۔چمچے ےا چمچوں کے بہت سے استعمال ہیں جو ہم روز مرہ زندگی میں کرتے ہیں۔چمچے کسی کی ملکیت نہیں ہوتے اور جو چمچے کسی کی ملکیت ہوں وہ چمچے نہیں ہوتے۔چمچوں سے کھانا کھایا جاتا ہے اور اگر یہ بڑے سائز کے ہوں تو اس سے دیگ بھی پکائی جا سکتی ہے۔جس غریب ےا نادار کے پاس کھانے کے لئے کچھ نہ ہو تو وہ خالی پلیٹ پر چمچے سے بطور musical instrument کا کام لے سکتا ہے۔چمچے سے کان کے اندر کا میل صاف کیا جا سکتا ہے۔المختصر چمچے سے اعلیٰ قسم کی مرغن غذاﺅں سے لے کر دیسی سبزی تک کھائی جا سکتی ہے۔
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ میں کیا اوٹ پٹانگ جملہ بازیاں کر رہا ہوں۔لیکن میرے کالم کے اختتام پر آپ کی رائے یقینناً بدل چکی ہو گی۔کیوں کہ میں آج روائتی اور عام استعمال کے چمچوں سے ہٹ کر تحریر کروں گا۔میرا آج کا اصل موضوع سیاسی چمچے ہیں۔سیاست کی اصطلاح میں چمچہ اسے کہا جاتا ہے جو شاہ سے زیادہ شاہ کا وفا دار ہو۔میں بہت سے چمچوں کے نام گنوا سکتا ہوں لیکن اس لئے پردہ رکھ رہا ہوں کیوں کہ اللہ کریم نے دوسروں کی خامیوں پر پردہ ڈالنے کے عمل کو پسند فرمایا ہے۔
بات ہو رہی ہے سیاسی چمچوں کی تو میں آپ تک ان کی خصوصیات من و عن بیان کرنے کی سعی کروں گا۔اگر آپ کو کوئی اعتراض ہو یا آپ کو اچھا لگے تو خاکسار 03009148820پر آپ کو جوابدہ ہونے کا پابند ہے۔میں آپ کی قیمتی آراءکا منتظر رہوں گا،اور آپ کی تجاویز میرے لئے زور قلم میں اضافہ کا باعث ثابت ہوں گی۔
سیاسی چمچے کی حیثیت مالشی پالشی اور خوشامدی کے علاوہ کچھ بھی نہیںہوتی۔یہ حضرات لوگوں کے سامنے معزز شمار کئے جاتے ہیں۔مگر اپنے نام نہاد آقاﺅں کے سامنے گیدڑ کی طرح دم دبائے رہتے ہیں۔ان کی زندگی کا مقصد اپنے آقاﺅں کی تعریف اور چاپلوسی کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔
اکثر چمچے ان پڑھ یا نا خواندہ ہوتے ہیں۔اور اگر خدا نخواستہ کوئی پڑھا لکھا چمچہ بننے کی کوشش کرے تو وہ اچھا چمچہ نہیں بن پاتا۔سیاسی چمچے ہر گاﺅں ہر گلی اور ہر محلے میں بکثرت پائے جاتے ہیں۔ان کا ایک کام یہ بھی ہے کہ اپنے آقاﺅں کی شہ پر غریب عوام کو لڑاتے ہیں اور خود ہی منصفی کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ان کی خاص پہچان یہ ہوتی ہے کہ یہ کالے رنگ کی ویسٹ کوٹ پہنتے ہیں۔اور اکثر سفید رنگ کے کپڑے زیب تن کرتے ہیں۔ان کے چہروں کی خباثت اور مکاری ایک کلو میٹر دور سے دیکھ کر محسوس کی جا سکتی ہے۔دیگر برے کاموں کے علاوہ ایک کام یہ بھی کرتے ہیں کہ حق دار کو کبھی بھی حق نہیں لینے دیتے۔اور میرٹ کی پامالی میں اپنے سرداروں کی منت سماجت اورجوتیاں چاٹ کر اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔
ان کے صاحب اگر کہیں کہ گدھا حاملہ ہے تو کہتے ہیں ہاں جی ہاں اگلے دو چار روز میں بچہ دے دے گا۔ان کے ہاتھ میں ایک نفیس رومال ہوتا ہے جسے عوام کے لئے فخر کی علامت کے طور پر یہ چمچے بار بار ہاتھ میں لے کر نمائش کرتے رہتے ہیں۔لیکن اپنے صاحب کے لئے اسی ریشمی رومال سے موقع تاک کر جوتے تک صاف کر دیتے ہیں۔
سیاسی چمچوں کی بڑی شان و شوکت ہوتی ہے۔لاکھ ڈیڑھ لاکھ سے لے کر دس بیس ہزار روپے کی ترقیاتی سکیمیں یہ اپنے ابا جی کا مال سمجھ کر ڈکار جاتے ہیں۔ان سیا سی چمچوں کی کوئی عزت نفس نہیں ہوتی۔یہ چھوٹی موٹی سکیموں سے اپنا اور اپنے اہل خانہ کا پیٹ دوزخ کے انگاروں سے بھرتے رہتے ہیں۔اور جب سکیموں یا منافع فنڈ کے پیسے ان کے پاس سے ختم ہو جاتے ہیں تو ان کی حالت بازار کے آوارہ بھوکے کتے جیسی ہو جاتی ہے۔کیوں کہ جب کسی کتے کے منہ سے ہڈی چھن جائے تو وہ بھی بے بس اور لا چار ہو جاتا ہے۔بعینہہ ان سے جب قومی خزانے کی رقم ختم ہو جائے تو یہ کچھ عرصے کے لئے مالک کو بھول کر بھوکے اور نڈھال کتے کی مانند اپنی اپنی کھولی میں گھس جاتے ہیں۔
قارئین! کالم طویل ہو رہا ہے،آخر میں اس بات پر ختم کروں گا کہ اگر آپ ملک کے اندر صاف ستھری اور کرپشن سے پاک سیاست کو فروغ دینا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے ان چمچوں کا قلع قمع کریں۔کیوں کی یہ برائی کی جڑ ہیں۔ان کو دنیا کے سامنے ان کے اصلی روپ میں لائیں تا کہ لوگوں کو ان کی اصلیت کا علم ہو لیکن اگر آپ نے سابقہ روایات کو برقرار رکھتے ہوئے ان کالے ویسٹ کوٹ والے حضرات کے پیچھے آوے ہی آوے اور جاوے ہی جاوے کرنا ہے تو آپ کی مرضی۔پھر آپ کے اوپر ہمیشہ ایسے ہی لوگ مسلط رہیں گے اور آپ حق و انصاف نہ ملنے کا رونا روتے رہیں گے۔اللہ آپ کو ان سیاسی چمچوں کے چنگل سے نکلنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں