18

ترشاوہ پودوں کی پےوند کاری

زرعی فیچر سروس
صوبہ پنجاب میںترشاوہ پھلوں کی کاشت سالانہ 4 لاکھ ایکڑ سے زائد رقبہ پرکی جاتی ہے اور اس سے قریباً21 لاکھ ٹن کی پیداوار حاصل ہوتی ہے۔پاکستان میں پیدا ہونے والے ترشاوہ پھلوں کی ڈیمانڈ پوری دنیا میں ہے۔پاکستان سٹرس کی پیداوار کے اعتبار سے دنیا میں تیرہواں بڑا ملک ہے اورسٹرس کی95 فیصد پیداوار صوبہ پنجاب سے حاصل ہوتی ہے۔پاکستان ہر سال ترشاوہ پھلوں کی برآمد سے قریباً180 ملین ڈالر سالانہ زرِمبادلہ کماتا ہے۔ترشاوہ پھلوںکی صحیح افزائش نسل کےلئے عمل پیوندکاری بہت ضروری ہے کیونکہ اس طریقہ کو بروئے کار لا کر صحیح النسل پودے تیار کیے جا سکتے ہیں۔ علاوہ ازیںپودے جلد بارآوری کی طرف مائل ہو جاتے ہیں جب کہ اگر بیج سے پودے اگائے جائیں تو وہ صحیح النسل نہیں رہتے، دیر سے بار آور ہوتے ہیں جبکہ مناسب پیوند کاری سے پودوں کی صحیح نسل برقرار رکھی جا سکتی ہے اور ان کی بارآوری میں بھی زیادہ وقت نہیں لگتا۔ باغبان بہتر پیوندکاری اور بعداز پیوندکاری حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کے لئے درج ذیل سفارشات پر عمل کریں۔ پیوندکاری صرف ان پودوں سے لی جائے جو کہ صحت مند اور اچھی پیداوار کے حامل ہوں اور جن پر پھل اچھے سائز اور بہتر خاصیت کا حامل ہو۔ عمل پیوندکاری میں کچے گلوں (Water Sprout) کا استعمال ہرگز نہ کیا جائے کیونکہ کچے گلوں سے بننے والا پھل گھٹیا قسم کا ہو گا جو کہ منڈی میں فروخت کے قابل نہیں رہتا۔ پیوندی لکڑی گول ہو اور اس پر سفید دھاریاں ہونا ضروری ہیں جبکہ اس کی موٹائی پنسل جتنی ہونی چاہیے۔ پیوندکاری کے لئے کچی لکڑی استعمال نہ کریں بلکہ ایسی شاخوں سے چشمے حاصل کیے جائیں جن کی عمر کم از کم 9 ماہ تک ضرور ہو۔ تکونی اور کانٹے دار شاخیں پیوندی لکڑی کے طور پر استعمال نہ کی جائیں۔پیوند کرنے سے دو ہفتے قبل روٹ سٹاک کو یوریا کھاد ڈال کر پانی لگا دینا چاہیے تاکہ روٹ سٹاک میں پھل اچھی طرح چل پڑے اور اس کی موٹائی پنسل کے برابر ہو جائے بعد ازاں سطح زمین سے ایک فٹ اونچائی تک چشمہ لگا کر پیوندکاری کر دی جائے اور پیوندی حصہ کے ارد گرد پلاسٹک ٹیپ اس طرح لپیٹ دیا جائے کہ اس میں ہوا کا گزر نہ ہو سکے جبکہ چشمہ کے اوپر کوئی چیز نہ لپیٹی جائے۔ جب کھٹی کے پودوں میں رس (Cell sap) چلنا شروع ہو جائے اور چھلکا باآسانی اتر جائے تو پیوندکاری آسانی سے ہو سکتی ہے۔ ترشاوہ پودوں کی پیوندکاری کا بہترین وقت مارچ کا پورا مہینہ اور ستمبر/ اکتوبر ہے۔ ترشاوہ پودوں کو عام طور پر دو طریقوں سے پیوند کیا جاتا ہے۔ بذریعہ چشمہ یا ٹی بڈنگ اور بذریعہ ٹی گرافٹنگ۔بذریعہ چشمہ بڈنگ بڑھانے سے پہلے روٹ سٹاک کے پودوں کی 30 سے 40 سینٹی میٹر اونچائی تک چھوٹی شاخیں اتار دیں۔ چشمے کو شاخ سے تراشنے کے بعد اس سے لکڑی علیحدہ کر لی جاتی ہے اس طرح چشمہ چھال کے اندر T کٹ میں آسانی کے ساتھ لگ جاتا ہے۔ گریپ فروٹ، میٹھا اور لیموں وغیرہ کے چشمے کے ساتھ کانٹا ہوتا ہے۔ ان اقسام میں چشمہ والی لکڑی سے کانٹے کو علیحدہ نہیں کرتے۔ روٹ سٹاک پر انگریزی حرف T شکل کا نشان چاقو کی مدد سے تقریباً 30 سے 40 سینٹی میٹر اونچائی پر لگایا جاتا ہے جس کی لمبائی تقریباً 2 سے 3 سینٹی میٹر ہونی چاہیے اس کے بعد چشمے کو T شکل والے نشان پر چھال کے اندر داخل کر کے احتیاط کے ساتھ روٹ سٹاک کا اوپر والا نرم چھلکا (Cambium Layer) اور سفید ریشے کو آپس میں اچھی طرح پیوست کر دیا جاتا ہے بعد ازاں اسے پولی تھین پلاسٹک وغیرہ کے ساتھ مضبوطی سے باندھ دیا جاتا ہے۔ تقریباً دو ہفتے کے بعد جب چشمہ پھوٹنا شروع ہو جائے تو اس وقت روٹ سٹاک کو پیوند کی جگہ سے تقریباً 7 سینٹی میٹر اوپر سے کاٹ دیں تاکہ چشموں کی بڑھوتری اچھی طرح سے ہو سکے۔ جب چشمہ اچھی طرح بڑھوتری شروع کر دے تو چشمے کے اوپر باندھی گئی پولی تھین وغیرہ کو اتار دینا چاہیے ورنہ وہ چھال کے اندر داخل ہو سکتی ہے اور چھال کٹ جانے کے بعد خوراک کی فراہمی رک جاتی ہے۔ جب ٹی بڈنگ سے حوصلہ افزاءنتائج حاصل نہ ہو رہے ہوں تو ٹی گرافٹنگ سے پیوندکاری کی جا سکتی ہے۔ اس طریقے کے لئے پیوندی لکڑی کی عمر کم از کم 3 سے 6 ماہ ہونی چاہیے۔ روٹ سٹاک پر انگریزی حرف T شکل کا کٹ بنایا جاتا ہے اور پیوندی شاخ کے نچلے حصے کو قلم کی طرح پانچ سینٹی میٹر ترچھا کاٹا جاتا ہے اس کے بعد پیوندی لکڑی کو T کٹ میں داخل کیا جاتا ہے اور پھر اچھی طرح سوتلی اور پولی تھین لفاے کے ساتھ مضبوطی سے باندھ دیا جاتا ہے۔ جب پیوندی شاخ پر چشموں سے شگوفے نکلنا شروع ہو جائیں تو مومی کاغذ صرف اوپر سے کھول دیا جاتا ہے اور جب اچھی طرح بڑھوتری شروع ہو جائے تو نیچے سے بھی مومی کاغذ کھول کر اتار دیا جاتا ہے۔ جب پیوندی شاخ کی نشوونما اچھی طرح سے ہو جائے تو پھر روٹ سٹاک کو پیوندی جوڑ سے تقریباً 7 سینٹی میٹر اوپر سے کاٹ دینا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں