10

PTI اسمبلی میں واپس آئے‘جلد بازی نہ کریں‘چیف جسٹس کا مشورہ

اسلام آباد(نیوزمارٹ ڈیسک) قومی اسمبلی کے استعفے ایک ساتھ منظور کرنے کی درخواست پر چیف جسٹس نے ایک بار پھر پی ٹی آئی کو اسمبلی واپس جاکر کردار ادا کرنے کا مشورہ دیااور ریمارکس میں کہا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کے استعفوں کے آرڈر پر ہم سے فیصلہ نہ لیں، ممکن ہے نئے آنے والے اسپیکر اسمبلی تصدیق کر کے اپنی تسلی چاہتے ہوں ۔ تحریک انصاف پر ذمے داری ہے چیزوں کو جلدی میں نہ کریں۔ تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی سے تمام استعفے ایک ساتھ منظور کرنے کی پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ایک بار پھر تحریک انصاف کو اسمبلی واپس جانے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ عوام نے پانچ سال کے لیے منتخب کیا ہے، پی ٹی آئی پارلیمنٹ میں اپنا کردار ادا کرے۔ پارلیمان میں کردار ادا کرنا ہی اصل فریضہ ہے۔چیف جسٹس نے دوران سماعت ریمارکس دیے کہ کروڑوں لوگ اس وقت سیلاب سے بے گھر ہوچکے ہیں۔ سیلاب متاثرین کے پاس پینے کا پانی ہے نہ کھانے کو روٹی۔ بیرون ملک سے لوگ متاثرین کی مدد کے لیے آ رہے ہیں۔ ملکی کی معاشی حالت بھی دیکھیں۔ پی ٹی آئی کو اندازہ ہے 123 نشستوں پر ضمنی انتخابات کے کیا اخراجات ہوں گے؟ ۔ جسٹس اطہر من اللہ نے گہرائی سے قانون کا جائزہ لے کر فیصلہ دیا ہے۔سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے کہا کہ اسپیکر کے کام میں اس قسم کی مداخلت عدالت کے لیے کافی مشکل کام ہے۔ استعفوں کی تصدیق پروسیجرل مسئلہ ہے ۔ عام انتخابات کے لیے پورا نظام ہوتا ہے۔ ضمنی انتخابات میں ٹرن آوٹ بھی کم ہوتا ہے۔ عدالت نے فیصل چودھری کو مزید تیاری کا وقت دیتے ہوئے استعفوں کی منظوری کے خلاف پی ٹی آئی کی اپیل پر عمران خان سے ہدایات لینے کی مہلت دے دی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ استعفوں کی منظوری کے لیے جلدی نہ کریں، ایک بار سوچ لیں، پارٹی ارکان آپ کی لیڈرشپ ہیں۔ عدالت نے سماعت غیرمعینہ مدت تک ملتوی کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں