11

عمران نے معافی مانگ لی،فرد جرم موخر‘ حکومت کا فوجداری مقدمہ واپس نہ لینے کا اعلان

اسلام آباد (نیوزمارٹ ڈیسک ) خاتون جج کو دھمکی دینے پر توہین عدالت کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان نے ہائی کورٹ میں پیش ہوکر معافی مانگ لی، جس پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کی معافی کو بادی النظر میں تسلی بخش قرار دے دیا،ہائی کورٹ نے عمران خان پر فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی بھی موخر کر دی۔عدالت کی جانب سے تحریری حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کی جانب سے معافی پر مطمئن ہیں اور عمران خان بیان حلفی دیں تو اسے زیر غور لایا جائے گا، فرد جرم کی کارروائی پر سماعت تین اکتوبر تک ملتوی کی جاتی ہے۔اس سے قبل، چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں 5 ججوں پر مشتمل لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی، جس میں عدالت نے عمران خان کی جانب سے معافی منظور کرتے ہوئے توہین عدالت کی کارروائی موخر کرنے کا فیصلہ کیا۔سماعت کا آغاز کرتے ہوئے عدالت نے عمران خان کو روسٹرم پر طلب کیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آج ہم صرف چارج پڑھیں گے۔علاوہ ازیں اسلام آباد ہائی کورٹ میں خاتون جج کو دھمکی دینے پر توہین عدالت کیس کی سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ میں مافیاں کے خلاف حقیقی آزادی کی جنگ لڑ رہا ہوں اور مجھے جس سے جنگ نہیں لڑنی، وہ پاکستان کی عدلیہ ہے۔ یقین دلاتا ہوں کہ آئندہ کسی جج کے بارے میں بات کرتے ہوئے احتیاط کرونگا۔انہوں نے کہا کہ خاتون جج کو دھمکانے کی نیت نہیں تھی، میں توہین عدالت کا سوچ بھی نہیں سکتا، میں 26 سال عدلیہ کی آزادی کی کوشش کی، میں نے ارادی طور پر خاتون جج کو دھمکی نہیں تھی،میں نے خاتون جج کے خلاف لیگل ایکشن لینے کی بات کی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں