42

قراقرم کو آپریٹوبنک گلگت تباہی کے دھانے پر

KCBL: سوا4کروڑ غیر قانونی بونس تقسیم‘ نیٹکو کو5کروڑ جاری‘ بینک تباہی کے دھانے پر
چیف منیجر کے خلاف ضابطہ اور غیر قانونی اقدامات‘ دینور برانچ نے63فیصد حد سے زائد130فیصد تک قرضے جاری کر دیئے‘ موجودہ جی ایم کو مستقل بنیادوں پر تعینات کرنے کا پلان
چیف کورٹ کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی‘ اہل اور قابل شخص کی تعیناتی کا حکم روند ڈالا‘ میرٹ کی دھجیاں اڑا دی گئیں‘ مستقل آسامی کیلئے اشتہار جاری‘ آرڈر پر عملدرآمد نہ ہوا
گلگت ( پناہ خصوصی رپورٹ) قراقرم کو آپریٹو گلگت تباہی کے دھانے پر‘ چیف منیجر کے خلاف ضابطہ اقدامات‘ بینک کے ملازمین میں42.7ملین(4کروڑ27لاکھ روپے) بونس غیر قانونی طور پر تقسیم‘ دینور برانچ نے قرض جاری کرنے کی قانونی حد 63فیصد سے نصف زائد130فیصد تک قرضے جاری کر دیئے‘ بینک کو دیوالیہ ہونے کے قریب کر دیا‘ چیف منیجر نے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی منظوری کے بغیر 5کروڑ روپے نیٹکو کو جاری کر دیئے‘ ان تمام خلاف ضابطہ اقدامات سے گلگت کا واحد بینک کے سی بی ایل تباہی کا شکار ہو گیا ہے۔ من پسند اور فرد واحد کے تمام غلط فیصلوں پر سونے کا سہاگہ موجودہ بینک جی ایم کو مستقل بنیادوں پر تعینات کرنے کا پلان بنا لیا گیا ہے جو کہ چیف کورٹ کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی ہے”پناہ کے ذرائع کے مطابق قراقرم کوآپریٹو بنک گلگت کے موجودہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کی طرف سے عدالتی احکامات کے باوجود عارضی بنیادوں پر تعینات جنرل منیجر کو مستقل بنیادوں پر تعینات کرنے کا امکان ہے جبکہ آڈٹ رپورٹ کے مطابق دنیور برانچ سے منظوری کی حد سے زیادہ قرضے لوگوں کو جاری کئے گئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ جنرل منیجر کی مستقلی کیلئے بورڈ کے کچھ ممبران کی آشیرواد حاصل ہے۔اور یہی وجہ ہے کہ چیف کورٹ گلگت بلتستان کے حکم کو نظر انداز کئے جانے کا پلان بنا لیا گیا ہے۔عدالت نے حکم دیا ہے کہ قراقرم کوآپریٹو بنک میں مستقل بینادوں پر جنرل منیجر تعیناتی کے لئے اسامی مشتہر کرکے جن لوگوں کوشارٹ لسٹ کیا گیا ہے ان میں سے کسی اہل اور تجربہ کار شخص کو تعینات کر کے عدالت کو آگاہ کیا جائے۔ذرائع کے مطابق بنک کے سابق بورڈ آف ڈائریکٹرز نے دوسال قبل فیصلہ کیا تھا کہ بنک کے جنرل منیجر کی تعیناتی کے لئے اشتہار جاری کر کے کسی اہل بینکار کو لایا جائے گا جو قراقرم بنک میں ضروری اصلاحات متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ اسے جدید اور ڈیجیٹل بینکنگ کی طرف لے جائے اور اسے شیڈول بنک بنانے اور اے ٹی ایم نظام بھی متعارف کرائے۔ ذرائع کے مطابق سابقہ بورڈ کے اس فیصلے پر اشتہار تو جاری ھوا مگر ابھی تک کوئی عمل درآمد نہ ہوا اور بنک کی موجودہ انتظامیہ اس پر عمل درآمد کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔ذرائع کے مطابق بینک کا موجودہ جنرل منیجر سنیارٹی لسٹ کو نظر انداز کر کے لایا گیا ہے اور ان پر بنک کے اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر(ایس او پیز) خلاف ورزی کرنے پر بھی کئی الزامات کا سامنا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کی بطور جنرل منیجر(عارضی) تعیناتی کا کوئی باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا ہے۔ادھر ایک خط کے ذریعے گلگت بلتستان کے اعلٰی حکام کو کہا گیا ہے کہ وہ اس صورتحال کا نوٹس لیں اور اس معاملے میں مداخلت کر کے بینک کو تباہی سے بچانے میں اپنا کلیدی کردارادا کریں A

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں