51

ٹیلی میڈیسن اور مصنوعی ذہانت کے شعبہ میں سرمایہ کاری اور ہیلتھ پروفیشنلز کی استعدادِ کار میں اضافے کی ضرورت ہے، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی

اسلام آباد۔(خبرنگار):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پاکستان کے دور دراز علاقوں کی آبادی کو صحت کی سہولیات کی فراہمی کیلئے ٹیلی میڈیسن کلینکس قائم کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیلی میڈیسن اور مصنوعی ذہانت کے شعبہ میں سرمایہ کاری اور ہیلتھ پروفیشنلز کی استعدادِ کار میں اضافے کی ضرورت ہے، مصنوعی ذہانت کے استعمال سے ڈیٹا کے تجزیہ اور وبائی بیماریوں کی پیش گوئی کی جاسکے گی۔ وہ جمعہ کو یہاں پاکستان میں ٹیلی ہیلتھ خدمات کی فراہمی کے متعلق اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ اجلاس میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے نیشنل ہیلتھ سروس، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن ڈاکٹر فیصل سلطان، سیکرٹری عامر خواجہ، کنسلٹنٹ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی تانیہ ایدرس، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ ڈاکٹر رانا محمد صفدر، ڈائریکٹر جنرل این آئی ٹی بی فیصل اقبال اور دیگر متعلقہ سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں وزارت نیشنل ہیلتھ سروس، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن کی جانب سے ٹیلی ہیلتھ کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی اور پاکستان میں ٹیلی ہیلتھ سروسز کے فروغ کے لئے مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔ اس موقع پر صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کے دور دراز علاقوں کی آبادی کو صحت سہولیات کی فراہمی کیلئے ٹیلی میڈیسن کلینک قائم کرنے کی ضرورت ہے، ٹیلی ہیلتھ سروسز نے کورونا سے متعلق معلومات عام کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے استعمال سے ڈیٹا کے تجزیہ اور وبائی بیماریوں کی پیش گوئی کی جاسکے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہیلتھ پروفیشنل اور مریضوں کے مابین رابطوں کو یقینی بنانے کے لئے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ صدر مملکت نے ملک میں ورچوئل کیئر نیٹ ورک کے فروغ کے لئے قانونی فریم ورک تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ وزارت نیشنل ہیلتھ سروس، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن اس سلسلے میں ریگولیٹری قانونی فریم ورک چھ ہفتوں میں مکمل کرے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں