35

پی ٹی آئی حکومت پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) سے خوفزدہ نہیں ہے،وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات فرخ حبیب

اسلام آباد۔(نمائند خصوصی):وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) سے خوفزدہ نہیں ہے، یہ لوگ وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانا چاہتے تھے لیکن آخر میں اپوزیشن جماعتوں نے ایک دوسرے پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا اور ایک دوسرے کو سلیکٹڈ تک کہہ دیا، اب بھی اپوزیشن حکومت کے خلاف جو حکمت عملی بنانا چاہتی ہے بنائے، ہمیں ان کے جلسے جلوسوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا، حکومت کی تمام تر توجہ اپنی ترجیحات پر عمل درآمد کرتے ہوئے ملک کی ترقی، معیشت کی بہتری اور عوام کی فلاح و بہبود پر مرکوز ہے۔ منگل کو نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں میں گروپنگ ہوتی ہے اور ارکان کے تحفظات ہوتے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، حکومت اپنے ارکان کے تحفظات کو دور کر لے گی، جہانگیر ترین سے متعلق بیرسٹر علی ظفر کی رپورٹ پارٹی کا اندرونی معاملہ ہے، جب رپورٹ آئے گی تو اسے پبلک کیا جائے گا لیکن اس رپورٹ سے ان کے خلاف تحقیقات اور عدالتی کارروائی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، جہانگیر ترین اداروں اور عدالتوں کا سامنا کریں گے۔ فرخ حبیب نے کہا کہ تحریک انصاف حکومت کے اقتدار میں آنے سے قبل ملک میں کرپشن کوئی ایشو ہی نہیں تھا اور نہ ہی بدعنوان عناصر کے خلاف احتساب ہوتا تھا، وزیراعظم عمران خان نے اقتدار میں آ کر اسے ایشو بنایا، چاہے اپوزیشن ہو یا کسی اپنے پر سوال اٹھے گا تو نہ صرف تحقیقات ہوں گی بلکہ احتساب بھی ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کے جو مسائل ہیں وہ ان کے اپنے پیدا کردہ ہیں، ن لیگ اور پیپلزپارٹی کا موجودہ نظام میں سٹیک ہے جبکہ مولانا فضل الرحمان کو عوام نے مسترد کر دیا ہے اسلئے وہ چاہتے تھے کہ نظام لپیٹ دیا جائے، اس حوالے سے جب پیپلزپارٹی نے ان کا ساتھ نہ دیا تو انہوں نے اسے شوکاز نوٹس جاری کر دیا اور اس سے معافی کا مطالبہ کر دیا، ان لوگوں نے استعفے دیئے، لانگ مارچ کیا اور نہ ہی وزیراعظم عمران خان کے تحریک عدم اعتماد پیش کی بلکہ آخر میں اپوزیشن نے ایک دوسرے پر ہی عدم اعتماد کا اظہار کر دیا۔ وزیر مملکت نے کہا کہ اب بھی اپوزیشن جو کرنا چاہتی ہے کرے، ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا، کوویڈ کی صورتحال کے دوران جلسے جلوس کرنا مجرمانہ عمل ہے اس کے علاوہ یہ جو کرنا چاہتے ہیں کریں۔ پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے ابھی کوئی آرڈیننس نہیں آ رہا، مجوزہ ڈرافٹ تیار کیا گیا ہے جسے سٹیک ہولڈرز کے ساتھ شیئر کیا گیا ہے، جس طرح جرنلسٹ میڈیا پروٹیکشن بل کے حوالے سے تمام سٹیک ہولڈرز اور صحافتی تنظیمیں حصہ ہوں گی اسی طرح مجوزہ ڈرافٹ پر بھی مشاورت ہو گی جس کے بعد کوئی حتمی فیصلہ کیا جائے گا، یہ اتھارٹی صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے پیشہ ورانہ امور اور ان کی ملازمتوں کا تحفظ یقینی بنائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں