44

یورینیم کی غیر قانونی برآمدگی سے ظاہر ہوتا ہے بھارت کے اندر ایٹمی مواد کی بلیک مارکیٹ وجود ہے: ترجمان دفتر خارجہ

تفصیلات کے مطابق پاکستان نے بھارت میں غیر قانونی طور پر یورینیم کی برآمدگی اور فروخت سے متعلق متعدد واقعات پر تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے خرید کنندہ کی شناخت پر زور دیا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے بھارت میں 6 کلو یورینیم فروخت میں ملوث افراد سے متعلق میڈیا رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ “پاکستان، بھارت میں یورینیم مواد کی غیرقانونی فروخت جیسے واقعات کی مکمل تحقیقات اور جوہری مواد کی حفاظت کے اقدامات پر زور دیتا ہے”۔زاہد حفیظ چوہدری نے کہا کہ یہ واقعات ناقص کنٹرول، ناقص ریگولیٹری اور اس کے کمزور نفاذ کے طریقہ کار کی نشاندہی کرتے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت کے اندر ایٹمی مواد کی بلیک مارکیٹ وجود ہے، انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1540 اور ایٹمی مواد کے تحفظ سے متعلق آئی اے ای اے کنونشن کی مدد سے ریاستوں کو پابند بنایا جائے کہ وہ جوہری مواد کو غلط ہاتھوں میں جانے سے روکنے کیلئے سخت اقدامات کو یقینی بنائیں۔ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ یہ معلوم کرنا بہت اہم کہ یورینیم کا خریدار کون ہے اور اس کے کیا ارادے ہیں، تاہم یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ بھارتی فروخت کنندہ کس کو یورینیم فروخت کررہے ہیں، یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس مواد کو بین الاقوامی بلیک مارکیٹ میں منتقل کیا جاسکتا ہے۔
مذید پڑھیں:
بھارت ایٹمی مواد کی خریدوفروخت کی منڈی بن گیا، سمگلر سے 6 کلوگرام یورینیم برآمد
خیال رہے کہ بھارتی ریاست جھارکھنڈ میں پولیس نے 7 افراد کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے 6.4 کلوگرام یورینیم برآمد کی تھی تاہم عہدیدار اب تک اصل مشتبہ شخص کو گرفتار کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے جس سے یہ حساس مادہ خریدا گیا تھا، جھارکھنڈ میں یورینیم کی کانیں ہیں اور ایک یورینیم پروسیسنگ پلانٹ بوکوارو شہر سے ڈیڑھ سو کلومیٹر دور جادگوڈا میں واقع ہے، گزشتہ ماہ بھارتی حکام نے 7.1 کلوگرام قدرتی یورینیم ضبط کیا تھا اور ناگپور سے دو افراد کو گرفتار کیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں