31

NHAکے ہاتھ مسافروں کے خون سے رنگے ہیں‘ این ایچ اے کو ملنے والے فنڈز کہاں جاتے ہیں، سڑکیں بارش کے پانی سے خراب ہو جاتی ہیں

اسلام آباد (خبر نگار) سپریم کورٹ نے این 25 ہائی وے کی خستہ حالی پر این ایچ اے کی رپورٹ مسترد کر دی۔ عدالت نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی سے شاہراوں کی مرمت اور حادثات سے متعلق رپورٹ طلب کرلی۔ بدھ کو چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سماعت کی۔ دوران ساعت چیف جسٹس نے ممبر ایڈمن این ایچ اے سے استفسار کیا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو ملنے والے فنڈز کہاں جاتے ہیں، این ایچ اے کی سڑکیں بارش کے پانی سے خراب ہو جاتی ہیں، ٹریفک حادثات میں جاں بحق ہونے والوں کا خون این ایچ اے کے ہاتھوں پر ہے۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ این ایچ اے ایک کرپٹ ادارہ بن چکا، ہائی وے کی زمینوں پر لیز کے پیٹرول پمپس، ہوٹل، دکانیں بن گئی ہیں، 2018 کی رپورٹ کے مطابق 12 ہزار 894 حادثات میں 5 ہزار 932 افراد جاں بحق ہوئے، آج کی خبر ہے رواں سال 36 ہزار افراد سڑک حادثات میں جان سے چلے گئے۔ ممبر ایڈمن این ایچ اے نے بتایا کہ رواں سال کے آخر میں روڈز کی حالت بہتر ہو جائے گی۔ عدالت نے سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔
این ایچ اے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں