14

خرابی نیب قانون میں نہیں اس کے غلط استعمال میں ہے، چیف جسٹس

اسلام آباد(نیوزمارٹ ڈیسک) چیف جسٹس پاکستان نے کہا ہے کہ خرابی نیب قانون میں نہیں اس کے غلط استعمال میں ہے۔سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی۔عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نیب ترامیم عوام اور منتخب نمائندوں کے مابین سماجی معاہدے اور آئین کے خلاف ہیں، موجودہ قانون کے تحت عوامی عہدیدار بطور ٹرسٹی احتساب سے نکل جائیں گے، کرپشن کے نا قابل احتساب ہونے سے بنیادی حقوق متاثر ہوتے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کا کہنا درست ہے کرپشن ایک بیماری ہے، کرپشن کا احتساب آئینی حکمرانی کے لیے لازم ہے، معیشت بھی متاثر ہوتی ہے، عدالت کے سامنے سوال ہے کہ ہم کہاں لائن کھینچیں کہ بنیادی حقوق متاثر ہوئے ہیں، خرابی نیب قانون میں نہیں اس کے غلط استعمال میں ہے، کرپشن سے سختی سے نمٹنا چاہیے اس نتیجے پر عدالت پہنچتی ہے تو ہمارے پاس اس کا بینچ مارک کیا ہو گا؟، خواجہ حارث آپ نے بتایا کہ کرپشن سے بنیادی حقوق متاثر ہوتے ہیں، طے یہ کرنا ہے کہ عدالت کے ایکشن کی کیا شدت ہونا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں