33

آئین میں گورنرراج کی گنجائش نہیں،آرٹیکل 140 اے سے سندھ کو حق مل سکتا ہے، فواد چوہدری

کراچی(نیوزمارٹ ڈیسک)وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نےکہا ہے لوگ مطالبہ کرتے ہیں سندھ میں گورنر راج لگادیں، لیکن آئین میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ، آرٹیکل 140اے کا نفاذ ہی واحد راستہ ہے جس کے ذریعے سندھ کو اس کا حق مل سکتا ہے۔
کراچی میں صحافیوں سے گفتگو میں فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ یہ کسی ایک فردکو ربڑ اسٹمپ کے طور پر وزیراعلیٰ سندھ بنا دیتے ہیں اور زرداری فیملی اسے اپنی مرضی سے چلاتی ہے۔

فواد چوہدری نےکہا کہ کراچی کو پیسہ مل نہیں رہا،سندھ کے مسائل حل ہونہیں رہے،تو یہ پیسہ جا کہاں رہا ہے؟کراچی میں پولیس کی اتنی اہلیت بھی نہیں کہ وہ امن وامان کی بنیادی ذمے داری نبھاسکے، کراچی جیسا شہر آج تک اپنی پولیس نہیں بناسکا۔ لاڑکانہ ، گھوٹکی ، بدین اور دیگر اضلاع کا حال دیکھ لیں، صوبے میں صحت کا نظام برباد ہوچکا ہے۔

’مراد علی شاہ اینڈ کمپنی سے کچھ نہیں ہونے والا،سپریم کورٹ آرٹیکل 148 اپلائی کرے‘

وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ سندھ میں پرانی اسکیمیں مکمل نہیں ہوئی تو نئی اسکیمیں کیسے رکھیں،یہ چاہتے ہیں کہ اسکیم ملے، اپنے ٹھیکدار سے شروع کروائیں اور بھول جائیں ، یہ چاہتے ہیں کہ پیسہ ڈائریکٹ ان کو ملے اور ہم چاہتے ہیں کہ ہیسہ ڈائریکٹ عوام پر لگے،یہ پیسہ سندھ میں نہیں بلکہ دبئی میں لگاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ : سندھ کے عوام کا پانی پنجاب نہیں بلاول،مراد علی شاہ اور سندھ کابینہ کے لوگ چوری کر رہے ہیں، آصف زرداری اور ان کی بہن کی زمینوں کا پانی تو کبھی کم نہیں ہوا، غیرجانبدار مبصرین کو لگانے دیں پتہ چل جائے گا کہ کتنا پانی آیا اور کتنا پانی کا اخراج ہوا۔

واضح رہے کہ آئین کا آرٹیکل 140 اے بلدیاتی حکومتوں سے متعلق ہے۔ اس آرٹیکل میں درج ہے کہ ہر صوبہ مقامی حکومتیں قائم کرے گا اور سیاسی، انتظامی اور مالی ذمے داریاں نچلی سطح تک لے جا کر مقامی حکومتوں کے نمائندوں کو تفویض کرے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں