51

بجٹ 2021-22: موبائل فونز اور کاسمیٹک کا سامان مہنگا

اسلام آباد(نیوزمارٹ ڈیسک)مالیاتی سال 2021-22 کے بجٹ میں موبائل فونز اور کاسمیٹک کا سامان مہنگا ہوگیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے اپنا تیسرا بجٹ پیش کردیا ہے۔

پیش کردہ بجٹ میں ‏‏موبائل فون درآمد کرنے پر ڈیوٹی میں اضافہ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

موبائل فون کی کالز ، شارٹ سروس میسجز اور موبائل انٹرنیٹ ڈیٹا بھی مہنگا ہو جائے گا۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تین منٹ سے لمبی موبائل فون کالز پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔

انٹرنیٹ ڈیٹا کے استعمال اور ایس ایم ایس پر بھی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ایک جی بی انٹر نیٹ ڈیٹا پر 5 روپے اضافی دینے ہوں گے تاہم موبائل فونز پر موجودہ ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح 12.5 فیصد سے کم کر کے 10 فیصد کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

مستقبل میں موبائل سروسز پر ودہولڈنگ ٹیکس 8 فیصد تک بتدریج کم کیا جائے گا۔ ای کامرس کو سیلز ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے۔

لیدر، پولٹری اور طبی سامان کے خام مال پر ڈیوٹیز کم کردی گئی ہیں۔غیر ضروری لگژری درآمدی اشیاء پر ٹیکس میں اضافہ کردیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ پرفیوم،کاسمیٹک کا سامان ، درآمدی مکھن،پنیراور شیمپو بھی مہنگاہوگا۔ ہرقسم کی درآمدی تیار خوراک کی قیمت زیادہ ہوگی۔ جانوروں کی خوراک پر بھی اضافی ڈیوٹی عائد کی گئی ہے۔

فوڈ پراسیسنگ ،پرنٹنگ اور ٹورزم انڈسٹری ، پیکیجنگ ،الیکٹرانک مینوفیکچرنگ انڈسٹری پر کسٹم ڈیوٹی میں کمی کی گئی ہے۔

جان بچانے والی 6 ادویات سستی ہوگئیں جبکہ معدنیات نکالنے پر ود ہولڈنگ ٹیکس ختم کردیا گیا۔ ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل ایئر ٹکٹس پر بھی ودہولڈنگ ٹیکس ختم کردیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں