44

فلورملز پر ٹیکسز‘20کلوآٹا تھیلا 90روپے مہنگا ہونے کا خدشہ، فلور ملز کو پورا کوٹہ دیدیا‘ بحران پیدا نہیں ہوگا‘سینئر وزیر خوراک عبدالعلیم خان

اسلام آباد/ لاہور( نمائندہ خصوصی) پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن نے ٹیکس کی وجہ سے آٹے کی قیمتیں بڑھانے کا عندیہ دے دیا ہے۔ 20 کلو آٹے کا تھیلا 90 روپے مہنگا ہونے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔تفصیل کے مطابق وفاقی بجٹ میں گندم پر ٹرن اوور ٹیکس صفر اشاریہ 25 فیصد سے بڑھا کر 1 اشاریہ 25 فیصد جبکہ آٹے کے چوکر پر سیلز ٹیکس 7 فیصد سے بڑھا کر سترہ فیصد کر دیا گیا ہے، س کا اطلاق یکم جولائی سے ہوگا۔چیئرمین پنجاب فلور ملز ایسوسی ایشن عاصم رضا کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 20 کلو تھیلا 1 ہزار 50 روپے سے بڑھ کر 11 سو 44 روپے کا ہو جائے گا۔ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو اآٹے کی قیمتیں بڑھانے بارے تفصیلات سے آگاہ کرینگے، اگر ٹرن اوور ٹیکس واپس نہ لیا گیا تو جولائی میں آٹے کی قیمتیں بڑھ جائیں گی۔ اور یہ عوام کے ساتھ ظلم ہوگافنانس بل میں فلور ملز کے لئے ٹرن اوور ٹیکس میں دی گئی رعایت ختم کردی گئی ہے، جس کے بعد ٹیکس بڑھنے سے 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت میں 30 روپے اضافے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔آئندہ مالی سال کے فنانس بل کے مطابق آٹے کی تیاری میں استعمال ہونے والی مشینری کی امپورٹ پر سیلز ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد اور آٹے سے نکلنے والے چوکر پر سیلز ٹیکس کی شرح 7 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد کردی گئی ہے، جب کہ یکم جولائی سے فلورملز کی آمدن پر ٹرن اوور ٹیکس ریٹ 0.25 فیصد کی بجائے 1.25 فیصد ہوگا۔دوسری جانب چیئرمین فلورملز ایسوسی ایشن عاصم رضا نے فنانس بل میں ایف بی آر کی نادانستہ غلطی یا سوچے سمجھے ٹیکس اضافہ کی تصدیق اور صورتحال کی نشاندہی کیلئے وفاقی وزیر خزانہ کو خط ارسال کردیا ہے۔چیئرمین فلورملز ایسوسی ایشن نے خط میں کہا ہے کہ فنانس بل میں ممکنہ غلطی کی وجہ سے فلورملز کو کم سے کم ٹرن اوور ٹیکس کے شیڈول سے خارج کردیا گیا، رواں مالی برس میں فلورملز پر 0.25 فیصد ٹرن اوور ٹیکس عائد ہے، جب کہ قومی اسمبلی میں پیش کردہ فنانس بل میں فلور ملز کو موجودہ شیڈول سے نکال دیا گیا ہے، اور یکم جولائی سے فلور ملز پر ٹرن اوور ٹیکس 1.25 فیصد ہوجائے گا، اور ٹیکس میں اضافے کی صورت میں آٹے کا 20 کلو کا تھیلا مزید 30 وپے مہنگا ہوگا، وفاقی وزیر خزانہ فنانس بل میں ہونے والی غلطی کی درستگی کر کے آٹا مہنگا ہونے سے بچائیں۔محکمہ خوراک پنجاب نے صوبے بھر میں 15 جون سے گندم کی خریداری بند کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ سینئرووزیر خوراک پنجاب عبدالعلیم خان نے اس سلسلے میں محکمے کو ہدایات جاری کر دیں۔سینئر وزیر خوراک عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت نے 35 لاکھ میڑک گندم کی خرید کا ہدف بر وقت حاصل کرلیا۔ وزیر اعظم عمران خان کے ویژن کے مطابق کسانوں کو گندم کابہترین معاوضہ ادا کیا گیا۔پہلی مرتبہ پنجاب میں 400 روپے اضافے کے ساتھ گندم 1800 روپے فی من خریدی گئی۔وزیر اعظم عمران خان کسان کی خوشحالی میں ہی ملک کی ترقی پر یقین رکھتے ہیں۔ا نہوں نے کہاکہ آیندہ سال کسانوں کو مزید سہولیات دیں گے اور گندم کی قیمت مزید بڑھائیں گے۔صوبے بھر کی فلور ملز کے پاس مطلوبہ ضرورت کے مطابق گندم کا سٹاک موجود ہے۔سینئر وزیر نے ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ فلور ملز کو گندم کی خریداری میں محکمہ خوراک بھرپور مدد فراہم کرے گا۔فلور ملز اپنے گندم کے سٹاک مکمل کریں اور خود انحصاری کو یقینی بنائیں۔انہوں نے کہاکہ پنجاب حکومت صوبہ کے پی کے ایک لاکھ میٹرک ٹن گندم دے رہی ہے۔شہریوں کو معیاری گندم اور آٹے کی فراہمی یقینی بنائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں