51

ملک کیلئے میت قیمتی یازندہ انسان اہم

تحریر۔۔علی جان
سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگانے والے سابق صدر مملکت جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کا انتقال اتوار کی صبح متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی کے ایک امریکی نجی ہسپتال میں 79 برس کی عمرمیں انتقال کرگئے۔ پرویز مشرف تقریباًآٹھ سال ملک پراقتدار پر براجمان رہے سے وہ دبئی کے امریکن ہسپتال زیرعلاج تھے۔ بالآخر بیماری کے ہاتھوں زندگی کی بازی ہار گئے، ان کی وفات سے تاریخ کا ایک عہد ایک باب اختتام کو پہنچا اوراس حقیقت سے بھی منہ نہیں موڑاجاسکتاکہ پرویز مشرف پاکستانی تاریخ میں متنازعہ کردارپرڈسکس ہوتے رہیں گے یعنی ایک منتخب حکومت کا خاتمہ کر کے اقتدار پر قابض ہوگئے مگر دوسری طرف اپنی اکچھ اچھی پالیسیون کی وجہ سے پاکستان کو مشکلات سے بھی نکالنے کی تگ ودو میں لگے رہے۔راقم کو یادپڑتاہے کہ دسمبر2019میں عدالت کی طرف سے تفصیلی فیصلہ آیاجس میں کہا گیا کہ پاکستان کے سابق فوجی صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کو آئین شکنی پر سزائے موت سنائی گئی۔اس تفصیلی فیصلے کے مطابق جسٹس سیٹھ وقار اور جسٹس شاہد کریم نے پرویز مشرف کو آئین شکنی اور سنگین غداری کا مجرم قرار دیا ہے جبکہ جسٹس نذر اکبر نے فیصلے سے اختلاف کیا ہے اور کہا ہے کہ استغاثہ اپنا کیس ثابت کرنے میں ناکام رہا۔اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کے لیے 30 دن کا وقت مقرر ہے تاہم اپیل دائر کرنے کے لیے پرویز مشرف کو پاکستان واپس آ کر عدالت کے سامنے پیش ہونا ہو گا۔پرویز مشرف پر آئین شکنی کا الزام تین نومبر 2007 کو آئین کی معطلی اور ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے حوالے سے تھا اور یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ کسی شخص کو آئین شکنی کے جرم میں سزا سنائی گئی ہے۔تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سنگین غداری کیس چھ برس تک چلا اور ملزم پرویز مشرف کو ان کے حق سے بھی زیادہ شفاف ٹرائل کا موقع اور دفاع کا مکمل حق دیا گیا۔فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ استغاثہ کے شواہد کے مطابق ملزم مثالی سزا کا مستحق ہے اور اسے ہر الزام میں الگ الگ سزائے موت سنائی جاتی ہے۔خصوصی عدالت نے سربراہ جسٹس سیٹھ وقار نے اپنے فیصلے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو حکم دیا کہ وہ جنرل (ر) پرویز مشرف کو گرفتار کرنے اور سزا پر عملدرآمد کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں اور اگر وہ مردہ حالت میں ملیں تو ان کی لاش اسلام آباد کے ڈی چوک لائی جائے جہاں اسے تین دن تک لٹکایا جائے۔جسٹس وقار نے اپنے اس حکم کی توجیہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ چونکہ ماضی میں کسی بھی فرد کو پاکستان میں اس جرم میں سزا نہیں دی گئی اور عدالت نے اپنا فیصلہ مجرم کی عدم موجودگی میں سنایا ہے۔ اس لیے اگر مجرم سزا پانے سے قبل اگر وفات پا جاتا ہے تو یہ سوال اٹھے گا کہ آیا فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔مشرف کو سزا دینے کے حق میں فیصلہ دینے والے دوسرے جج جسٹس شاہد کریم نے جسٹس سیٹھ وقار کے فیصلے میں پرویز مشرف کی موت کی صورت میں ان کی لاش ڈی چوک پر لٹکانے کے حکم سے اختلاف کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کے خیال میں مجرم کو سزائے موت دینے کا حکم کافی ہے۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئین شکنی اور سنگین غداری ایک آئینی جرم ہے اور یہ وہ واحد جرم ہے جس کی سزا آئینِ پاکستان میں دی گئی ہے۔آئین کی شق نمبر چھ کے مطابق وہ شخص جس نے 23 مارچ 1956 کے بعد آئین توڑا ہو یا اس کے خلاف سازش کی ہو، اس کے عمل کو سنگین غداری قرار دیا جائے گا اور اس کو عمر قید یا سزائے موت سنائی جائے گی۔جنرل (ر) پرویز مشرف ہر طرح کی طاقت کااکیلے استعمال کرناچاہتے تھے اس لیے انہوں نے پاکستان میں میڈیا کو وسعت اور آزادی دینے کی پالیسی اختیار کی انہوں نے پرائیویٹ ٹی وی چینلز کے لائسنس دیئے۔ یہ بظاہر بڑا خطرناک فیصلہ تھا کیونکہ پرویز مشرف ایک آمر تھے اور آمروں کی سب سے پہلے کوشش یہ ہوتی ہے کہ میڈیا کو پابند کیا جائے مگر پرویز مشرف اس کے برعکس گئے اور انہوں نے پی ٹی وی کے مقابلے میں نجی چینلوں کو نشریات شروع کرنے کی اجازت دے دی، آگے چل کر جب یہی چینلز ان کے لئے درد سر بنے تو انہوں نے پابندیاں لگانے کی کوشش بھی کی مگر اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی۔جس طرح ہر آمر کو اپنے اقتدار کی طوالت کے لئے مختلف ہتھکنڈے اختیار کرنے پڑتے ہیں اسی طرح کے ہتھکنڈے پرویز مشرف نے بھی اختیار کئے۔ انہوں نے ایک طرف وردی میں اپنے انتخاب کو یقینی بنایا اور دوسری طرف انتخابات کرا کے اپنے من پسند حکمران بھی لاتے رہے وہ اس الزام سے بچنا چاہتے تھے کہ انہوں نے آئین کو معطل کیا ہے۔ اس کے لئے انہوں نے عدالتوں سے نظریہ ضرورت کے تحت فیصلے بھی لئے اور اسمبلیاں بھی قائم کیں جن میں وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ کے انتخابات بھی کرائے مگر سب جانتے تھے کہ اقتدار کا اصل مرکز پرویز مشرف کی ذات ہے اس دوران ان پر متعدد بار یہ عالمی و اندرونی دباﺅڈالا گیا کہ وہ نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کو واپس آنے دیں تا کہ وہ پاکستانی سیاست میں اپنا کردار ادا کر سکیں مگر وہ راضی نہ ہوئے۔ نوازشریف نے خود معاہدہ کر کے پاکستان سے باہر گئے تھے اس لئے ان کی واپسی تو نا ممکن تھی اس لیے واپسی کی ناکام بنا دی گئی۔ تاہم بے نظیر بھٹو کو وہ زیادہ دیر جلا وطن نہ رکھ سکے اور عالمی دباﺅ پر وہ پاکستان واپس آ گئیں۔ پرویز مشرف کے دور ہی میں ان پر قاتلانہ حملہ ہوا اور وہ شہید ہو گئیں۔ان کی شہادت کے بعد پرویز مشرف پر دباﺅبڑھ گیا کہ وہ انتخابات کرائیں اور اقتدار منتخب نمائندوں کے حوالے کریں انتخابات ہوئے تو پیپلزپارٹی کو مرکز میں اکثریت ملی اور اس کی حکومت قائم ہو گئی جس کے بعد پرویز مشرف کا حقیقی زوال شروع ہواپہلے انہیں وردی اتارنی پڑی پھر صدارت سے بھی ہاتھ دھونا پڑا اور فوج نے انہیں باقاعدہ پروٹوکول دے کر ملک سے باہر بھجوا دیا۔ پرویز مشرف واحد جرنیل ہیں جن پر آرٹیکل 6 کے تحت بغاوت کا مقدمہ بنا اور انہیں موت کی سزا بھی سنائی گئی۔ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کوکراچی کالا پل کے قریب قائم فوجی قبرستان میں سپرد خاک کردیاگیاان کی تدفین فوجی اعزازکے ساتھ کی گئی، نمازجنازہ میں سابق آرمی چیف قمرجاوید باجوہ،ریٹائرڈ و حاضرسروس اعلی فوجی افسران،سیاسی وسماجی قائدین نے شرکت کی اب آخرمیں اپنے قارئین کے آگے ایک سوال رکھناچاہتاہوں مشرف وفات پاگئے ان کے اثاثے ملک سے باہراوران کے کیس بندآخرسب نے اس دنیاسے جاناہے اب وہ وقت دوربھی نہیں جب شریف برادران کے ساتھ بھی ایسے ہوگاکیاان کے اثاثے ملک میں لائے جائیں گے یاوہ بھی باہرکے ممالک کوفائدے دیں گے؟۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں