53

جی 20 نے پاکستان کا 3.7 ارب ڈالر کا قرضہ اس سال کے آخر تک معطل کر دیا ہے، الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے ووٹنگ ہماری ترجیح ہے، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین کی میڈیا بریفنگ

اسلام آباد۔ (نیوزمارٹ ڈیسک):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ ن لیگ موجودہ دور کی ایسٹ انڈیا کمپنی ہے، جس طرح ایسٹ انڈیا کمپنی نے پیسہ لوٹا اسی طرح نواز شریف نے بھی کیا، گوالمنڈی میں پٹھو گرم کھیلنے والے آج لندن میں پولو میچ دیکھ اور کھیل رہے ہیں، اوورسیز پاکستانیوں کو پاکستان کی سیاست کا لازمی جزو سمجھتے ہیں، ن لیگ کی ساری قیادت لندن بیٹھی ہے لیکن اوور سیز پاکستانیوں کے ووٹ کے حق پر اعتراض کرتے ہیں،

جی 20 نے پاکستان کا 3.7 ارب ڈالر کا قرضہ اس سال کے آخر تک معطل کر دیا ہے، الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے ووٹنگ ہماری ترجیح ہے، پی ایس ڈی پی کے تحت 900 ارب روپے کے منصوبے ہیں، اپوزیشن بجٹ کو پڑھے، پھر اپنی تجاویز سامنے لائے، اپوزیشن کو اپنی بات کرنی ہے تو ہمارا نکتہ نظر بھی سننا ہوگا۔

منگل کو وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ جی 20 نے پاکستان کا 3.7 ارب ڈالر کا قرضہ اس سال کے آخر تک معطل کر دیا ہے، یہ معیشت کے لئے اچھی خبر ہے، قرضے کی یہ رقم ہم نے فوری ادا کرنی تھی۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ کے اجلاس میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے حوالے سے گفتگو ہوئی، گزشتہ ہفتے الیکشن کمیشن سے ملاقات میں ہم نے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے ڈیمو کی بات کی تھی، اس ہفتے الیکشن کمیشن کو اس کا ڈیمو پیش کیا گیا ہے، اس میں الیکشن کمیشن نے سوالات بھی رکھے اور ماہرین نے ان کا جواب دیا۔ انہوں نے بتایا کہ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف الیکٹرانکس اور کامسٹیس کی جانب سے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کی پروٹوٹائپ تیاری کا عمل جاری ہے۔

یہ ٹیکنالوجی الیکشن کمیشن کے 36 پوائنٹ ایجنڈے کے مطابق تیار کی گئی ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ آئندہ ضمنی انتخابات میں ای وی ایم استعمال ہو۔ انہوں نے بتایا کہ نادرا کے سسٹم کے آڈٹ کے حوالے سے وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی رپورٹ پیش کی جا چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت پارلیمانی امور نے وزیراعظم کو بتایا کہ الیکشن اصلاحات بل 11جون 2021ءکو قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد سینیٹ کو بھجوا دیا گیا ہے۔

اسی طرح الیکٹرانک ووٹنگ اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا اختیار دینے کے حوالے سے آرڈیننس بھی قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد سینیٹ کو بھجوا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین ہماری سب سے پہلی ترجیح ہے، اس کے ساتھ ساتھ ہم اوورسیز پاکستانیوں کے لئے ای ووٹنگ لا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیز ملکی سیاست کا ایک لازمی جزو ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ ان کو یہ حق ملنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ جب احسن اقبال نے یہ بات کی کہ اوورسیز پاکستانیوں کو پاکستان کے مسائل کا کیا علم ہوگا،

اس پر حیرانگی ہوئی، ن لیگ کی ساری قیادت لندن میں بیٹھی ہوئی ہے جن کی تمام جائیدادیں وہاں پر ہیں اور وہ اوور سیز پاکستانیوں کے ووٹ کے حق پر اعتراض کرتے ہیں۔ نواز شریف اور ان کی فیملی کا ٹیکس ہی دیکھ لیا جائے کہ وہ کتنا ٹیکس پاکستان میں اور کتنا لندن میں ادا کرتے ہیں۔ ن لیگ موجودہ دور کی ایسٹ انڈیا کمپنی ہے، ایسٹ انڈیا کمپنی نے جو کچھ ہندوستان کے ساتھ کیا، یہی کچھ ن لیگ اور ان کی قیادت کر رہی ہے۔

شریف فیملی نے یہاں سے پیسہ لوٹا اور باہر منتقل کیا۔ گوالمنڈی میں پٹھو گرم کھیلنے والے بیرون ملک پولو کھیل اور دیکھ رہے ہیں، پولو سمجھنے والوں کو پتہ ہے کہ لندن کے اندر پولو کھیلنا کتنا مہنگا ہے، یہ لوگ یہاں سے بیماری کا بہانہ بنا کر بیرون ملک بھاگے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ شہباز شریف کو ایف آئی اے نے چار سوالات بھیجے ہیں کہ دو شوگر ملوں سے 25 ارب روپے کی ہونے والی منی لانڈرنگ کا جواب دیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا عدلیہ سے مطالبہ ہے کہ شہباز شریف کے کیسز کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کی جائے،

عوام ان کیسز کا نتیجہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی اور اندرون سندھ کے حالات سب کے سامنے ہیں، وفاق سے جو پیسہ سندھ جا رہا ہے، اس کی منظم طریقے سے دبئی، کینیڈا، برطانیہ، فرانس میں لانڈرنگ کی جاتی ہے، یہ پاکستان کے عوام کا پیسہ ہے، اس کے بارے میں جاننا عوام کا حق ہے۔ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ پی ایس ڈی پی کیلئے تھرڈ پارٹی ایولیوایشن میکنزم تشکیل دیا جائے گا، یہ میکنزم وفاق اور چاروں صوبوں میں ہوگا، چاروں صوبوں کے صوبائی ادارے جو وفاق کے پیسے سے منصوبے لگا رہے ہیں،

ان پر بھی تھرڈ پارٹی میکنزم لگایا جائے گا تاکہ عوام کو بتایا جا سکے کہ یہ سارا پیسہ کہاں جا رہا ہے اور اس میں شفافیت لائی جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے لاہور والٹن ائیرپورٹ کے مقام پر سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ کے قیام کے حوالے سے حاصل ہونے والی آمدنی کی تقسیم کا فیصلہ کیا ہے۔ فیصلے کے مطابق آمدنی کا 42.6 فیصد سول ایوی ایشن جبکہ 57.4 فیصد پنجاب حکومت کو ملے گا۔ مذکورہ زمین 52 ایکڑ سول ایویشن جبکہ 70 ایکڑ حکومت پنجاب کی ملکیت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے ہوائی کمپنی اے ایچ ایس ائیر انٹرنیشنل کے چارٹر لائسنس کلاس- II کو 17 اگست 2016ءسے ریگولرائز کرنے کی منظوری دی۔

اس لائسنس میں مزید توسیع مروجہ پالیسی کے مطابق وزارت ہوابازی کی جانب سے کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے عزیز نشتر، ثاقب ہمدانی اور قاصف شاہد کو پاکستان پوسٹل سروسز منیجمنٹ بورڈ میں بطور پرائیویٹ ممبرز تعینات کرنے کی منظوری دی۔ کابینہ نے بریگیڈیئر نعمان احمد کو ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا بورڈ میں بطور ممبر پراجیکٹ پلاننگ تعینات کرنے کی منظوری دی۔ اسی طرح کابینہ نے کارلٹن ہوٹل کراچی کی 2.07 ایکڑ اراضی پر اپارٹمنٹس کی تعمیر کا معاملہ موخر کر دیا۔ انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے کراچی میں واقع پاکستان کوارٹرز کی اراضی کا معاملہ سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں حل کرنے کے حوالے سے وزارت ہائوسنگ کی تجویز پر مزید غور کرنے کی ہدایت کی۔

پاکستان کوسٹ گارڈز فائونڈیشن کے قیام پر فیصلہ بھی موخر کر دیا گیا ہے۔ کابینہ نے ریپ اور گھریلو تشدد کے جرم میں ناروے حکومت کی جانب سے سزا یافتہ مجرم محمد اویس کو ناروے حکومت اور مجرم کی خود اپنی درخواست کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے ناروے حکومت کے حوالے کرنے کی بھی منظوری دی۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے غیر ملکی پنجابی فلموں کی درآمد کا معاملہ مزید غور کے لئے موخر کر دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ این سی او سی سے بات ہوئی ہے، سینما گھر 30 جون تک کھولنے کی تجویز ہے، اس بارے میں فیصلہ این سی او سی کرے گی۔

چوہدری فواد حسین نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے نیشنل ڈیجیٹل کیبل پالیسی 2021ءکی اصولی منظوری دی۔ انہوں نے کہا کہ جب سے پاکستان میں میڈیا اوپن ہوا ہے اور نئے چینلز آئے ہیں، کیبل کو ڈیجیٹلائز کرنے کا فیصلہ سب سے بڑا پالیسی فیصلہ ہے۔ اس وقت ہمارے گھروں میں اینالاگ کیبل آ رہی ہے، اس کی کوالٹی نہ ہونے کے برابر ہے اور اس کے چینلز کی تعداد بھی محدود ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریٹنگ کے حوالے سے بھی اس میں مسائل ہیں۔ کیبل کو ڈیجیٹلائز کرنے کے بعد ریٹنگ 100 فیصد شفاف ہوگی۔ اس وقت چینلز کی تعداد 143 کے قریب ہے لیکن ڈیجیٹلائز ہونے کے بعد چینلز کی تعداد 950 تک پہنچ جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ اس سے سبسکرپشن ماڈل بھی شروع ہوگا۔

بہت سے انگریزی چینلز سبسکرپشن کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے بند ہو گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس کے نتیجے میں موجودہ ٹی وی چینلز کو نئے چینلز چلانے کے لئے سبسکرپشن کی سہولت بھی ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس میں فور کے سگنل کو بھی یقینی بنایا جائے گا جس کا فائدہ کیبل آپریٹرز کو ہوگا کہ وہ براہ راست مواد خرید سکیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے سات ملکوں میں کمیونٹی ویلفیئر اتاشی کے عہدوں پر افسران کی تعیناتی کی منظوری دی ہے۔ کابینہ نے سعودی عرب میں پاکستانی کمیونٹی کی شکایات کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستانی سفارتخانوں سے دو افسران کو واپس بلانے کی بھی منظوری دی۔ انہوں نے بتایا کہ تمام سفارت خانے اپنی کمیونٹی کو سہولت فراہم کرنے کے پابند ہوں گے اور جس سفارت خانے کے افسر کے بارے میں شکایت آئے گی تو اسے واپس بلا لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ نے نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن اور تکامل سعودی عرب کے درمیان سروس ایگریمنٹ کی منظوری دی۔

کابینہ نے کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کے حوالے سے این ڈی ایم اے کو سٹرام واٹر ڈرین پراجیکٹ منصوبے پر عمل درآمد کرنے کی منظوری دی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کو وفاق سے پیسہ منتقل ہوتا ہے لیکن پھر بھی وہاں ترقیاتی کاموں کے لئے پیسہ وفاقی حکومت کو دینا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 18 ویں ترمیم تو کرلی گئی، اس کی چیمپئن بھی پیپلز پارٹی تھی، اگر وہاں نالوں کی صفائی، سڑکوں کی تعمیر اور کالج و سکولوں کا قیام بھی وفاق نے ہی کرنا ہے تو اس ذمہ داری لینے کی کیا ضرورت تھی۔ انہوں نے کہا کہ سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ گولز اچیومنٹ پروگرام کی گائیڈ لائنز میں ترمیم کی تجویز پر غور کرتے ہوئے کابینہ نے ہدایت کی ہے کہ ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد کے عمل کو آسان بنایا جائے اور بروقت مالی وسائل کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

اس کے ساتھ ساتھ کابینہ نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے ہدایت کی کہ پی ایس ڈی پی کے تحت ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد کی مانیٹرنگ کے موثر نظام کو یقینی بنایا جائے تاکہ وفاق اور صوبائی سطح پر ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد اور معیاری کام کو یقینی بنایا جا سکے۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 2 جون اور 9 جون 2021ءکے اجلاسوں میں لئے گئے فیصلوں کی بھی منظوری دی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ کابینہ نے سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ گولز اچیومنٹ پروگرام کے تحت کانوینٹ سکول بہاولپور کو 10 ملین روپے کی گرانٹ کی بھی منظوری دی۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہم اس بات کے حامی ہیں کہ بجٹ پر بحث ہونی چاہئے، ہمیں اپوزیشن کی تنقید سے کوئی مسئلہ نہیں لیکن تنقید اور توہین دو مختلف چیزیں ہیں۔ اپوزیشن تنقید کی آڑ میں توہین کرے گی تو وہ قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو بات کرنی ہے تو اسے حکومت کی بات سننی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اور وزراءکے خلاف بدتمیزی اور بدتہذیبی کی جائے گی تو ایوان کا ماحول خراب ہوگا۔ ابھی بھی اپوزیشن سے کہتے ہیں کہ تسلی سے بجٹ کو پڑھے، اپنی مثبت تجاویز دیں، قابل عمل تجاویز پر غور ہو سکتا ہے۔
ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ڈی ٹی ایچ انٹینا کے ذریعے دیکھی جانے والی ٹیکنالوجی ہے، اس کو ڈیجیٹلائز کرنے کا عمل الگ ہے جبکہ وفاقی کابینہ میں کیبل کو ڈیجیٹلائز کرنے کے بارے میں پالیسی کی منظوری دی گئی ہے۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کی تیاری کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس قسم کا کوئی مسئلہ درپیش نہیں، بیرون ملک کی دو کمپنیوں نے بھی مشینیں تیار کی ہیں، ہم نے اس عمل کو اس لئے جلدی شروع کیا کہ مشینوں کی تیاری میں وقت لگے گا۔
ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ ق لیگ نے کبھی کابینہ کے اجلاس کا بائیکاٹ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 900 ارب روپے کا پی ایس ڈی پی ہے، اس کے تحت بہت سے منصوبے شروع ہوں گے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اپوزیشن الیکٹرانک ریفارمز پر اپنی تجاویز دے، احسن اقبال کہہ رہے ہیں کہ اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹنگ کا حق ہی نہیں دینا چاہئے۔
شہباز شریف کی اپنی سیاست ہے، ن لیگ کو ابھی تک سمجھ نہیں آ رہا کہ اس نے کس کی پالیسی پر عمل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن پہلے آپس میں بیٹھے، اپنا نکتہ نظر پیش کرے، اس پر بات ہوگی، لازمی نہیں کہ ہمارا ہی نکتہ نظر چلے گا ہم تو اپوزیشن کا نکتہ نظر لینا چاہتے ہیں لیکن وہ دے تو صحیح۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ تمام اتحادی وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں متحد ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں