33

ڈاکٹر کے مطابق ملیکہ بخاری پر اپوزیشن کی جانب سے حملہ کے باعث بائیں آنکھ کا قرنیہ زخمی ہوگیا،فرخ حبیب

اسلام آباد (ویب ذرائع)وزیر مملکت اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے کہا ہے کہ ڈاکٹر کے مطابق ملیکہ بخاری پر اپوزیشن کی جانب سے حملہ کے باعث بائیں آنکھ کا قرنیہ زخمی ہوگیا،یہ کیسے لوگ ہے جو پوری قیادت سمیت ایسے حملوں اور رویوں کو پروان چڑھا رہے ہیں،خواتین کی عزت اور تقدس کا بھی انہیں کوئی خیال نہیں،شبہاز شریف کی تقریر اگر مریم صفدر گروپ نہیں سننا چاہتا تھا تو ایوان سے باہر نکل جاتا یہ ہلڑ بازی نہ کرتے،انتخابات کو شفاف بنانے کیلئے ٹیکنالوجی کا استعمال کرنے جارہے ہیں ، دنیا کے کئی ممالک میں الیکٹرانک ووٹنگ کا نظام رائج ہے۔بدھ کو اپنے ٹویٹ میں وزیر مملکت فرخ حبیب نے کہا کہ ڈاکٹر کے مطابق ملیکہ بخاری پر اپوزیشن کی جانب سے حملہ کے باعث ان کی بائیں آنکھ کا قرنیہ زخمی ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کیسے لوگ ہے جو پوری قیادت سمیت ایسے حملوں اور رویوں کو پروان چڑھا رہے ہیں،خواتین کی عزت اور تقدس کا بھی انہیں کوئی خیال نہیں۔ بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ گذشتہ روز قومی اسمبلی جو قانون سازی کا ایوان ہے اسے پہلوان سازی اور تن سازی کااکھاڑہ بنایا گیا ،کتنی شرم کی بات ہے پوری قیادت اس معاملے کی پشت پناہی کررہی ہے ، اپوزیشن بنچوں کی جانب سے پہلے گالم کلوچ کیا گیا پھر ٹارگٹ کر کے ملیکہ بخاری پر حملہ کیا گیا، ایسے لوگوں کو خواتین کی عزت اور تقدر کا خیال نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مریم نوازنے شاہد خاقان عباسی کو ہدایات جاری کیں کہ ایوان میں ہلڑ بازی اور حملہ کرائیں ، یہ نئے رویئے نہیں ان کی تاریخ ہے ، ان کی قیادت نے سپریم کورٹ پر حملہ ، نیب پر پتھرائو سمیت ایسی کارروائیاں کر چکے ہیں ،شبہاز شریف کی تقریر اگر مریم صفدر گروپ نہیں سننا چاہتا تھا تو ایوان سے باہر نکل جاتے ،ہلڑ بازی نہ کرتے ۔ انہوں نے کہا کہ 20مرتبہ اپوزیشن سے رابطہ کیا لیکن کوئی سنجیدہ جواب نہیں ملا ،وزیراعظم کو پہلے دن تقریر کرنے کا موقع نہیں دیا ۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نے 110قانون قومی اسمبلی سے پاس کرائے ہیں درجنوں ایسے قوانین ہیں جو ایک ایک سال سے پڑے ہیں اپوزیشن بحث نہیں کرنا چاہتی بلکہ بحث کی بجائے بائیکاٹ کو ترجیح دی ۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلیوں سے ٹی اے ڈی اے ،تنخواہیں لیتے ہیں تاہم قانون سازی میں کوئی دلچسپی نہیں ہے ،جب بھی اپوزیشن کے ساتھ معاہدہ ہوا تو اپوزیشن نے ہی اسے توڑا ،سپیکر قومی اسمبلی سے مطالبہ ہے کہ اپوزیشن کے ساتھ ہونے والا معاہدہ میڈیا سے بھی شیئر کیا کریں کیونکہ اپوزیشن معاہدے کر کے مکر جاتی ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انتخابات کو شفاف بنانے کے لئے ٹیکنالوجی کا استعمال کرنے جارہے ہیں ، دنیا کے کئی ممالک میں الیکٹرانک ووٹنگ کا نظام رائج ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں