44

سیاحتی مقام وادی بابوسر ٹاپ پر سیاحوں کا میلا سج گیا

چلاس (نیوز مارٹ ڈیسک)پاکستان کا سب زیادہ مقبولیت حاصل کرنے والا مشہور و معروف ترین سیاحتی مقام وادی بابوسر ٹاپ پر سیاحوں کا میلا سج گیا۔وادی بابوسر فطرت کے متوالوں کے لیے توجہ کا مرکز بن گیا ہے،یہاں کے حیسن و دلکش مناظر ملکی و غیر ملکی سیاحوں کو اپنی فطری جھلک سے کھنچ لاتیضلع دیامر میں گلگت بلتستان کے دیگر اضلاع سے کئی گنا زیادہ سیاحت کو فروغ دینے کے لیے یہاں بے شمار (پوٹینشل)مواقع موجود ہیں،مگر افوس صد افسوس کہ صوبائی حکومت گلگت بلتستان بشمول محکمہ سیاحت کی عدم دلچسپی،غفلت،کوتاہیاں اور لاپرواہی کا نتیجہ ہے ان مقامات تک سیاحوں تک رسائی حاصل نہیں ہے کہ دنیا کے نظروں سے اوجھل ہے۔ضلع دیامر قدرتی حسن میں ثانی نہیں رکھتا۔دوسری جانب گلگت بلتستان کے عام پبلک ٹرانسپورٹ کو بلا وجہ وقت کا قلیل تقاضہ کی بے بنیاد وجوہات کے بہانے پر زیروپوئنٹ چلاس میں بابوسر شاہراہ پر سفر کرنے سے سیاح اور مسافروں کو روکا جا رہا ہے ہے،جس سے نہ صرف عوام گلگت بلتستان بلکہ سیاح اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے جبکہ بابوسر ناراں نیشنل ہائے وے ایک محفوظ شاہراہ ہے،جبکہ دنیا کا آٹھواں عجوبہ اب عجوبہ نہ رہا بلکہ ڈیموں کے تعمیرات وغیرہ اور لولڑکتے چٹان موت کا کنواں،موت کا سوداگر بن چکا ہے،آئے دن شاہراہ قراقرم پر حادثات رونما ہوتے ہیں۔اس کے لیے صوبائی حکومت گلگت بلتستان اور وفاقی حکومت پاکستان کو چاہئے کہ بابوسر ناراں نیشنل ہائے وے پر مستقبل کے لیے اہم ترین وسائل بروئے کار لایا جائے، جبکہ اسی کے متبادل پرسکون،محفوظ اور خوبصورت دلکش مناظر سے بھرپور سرشار وادی بٹوگاہ سڑک (بھی وقت کی اہم ضرورت ہے)چلاس سے گیٹی داس لنک کرتا ہے تاہم محکمہ پی ڈبلیو ڈی دیامر کی غفلت اور لاپرواہی اور صوبائی حکومت گلگت بلتستان کی عدم دلچسپی سے اکیسویں صدی میں بھی مقامی لوگ کشادہ سڑک سے محروم ہیں۔سروے کے مطابق گلگت بلتستان سمیت ملک بھر کے عوام بابوسر ناراں نیشنل ہائے وے پر سفر کرنے پر رضامند ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں