38

حکومت زراعت،لائیو سٹاک اور انڈسٹری کی بہتری کیلئے تمام وسائل بروئے کا ر لارہی ہے،عوام کو بین الاقوامی معیار کی سبزیاں،پھل اور زرعی اجناس فراہم کرنا اولین ترجیح ہے، جمشیداقبال چیمہ

لاہور(نیوزمارٹ ڈیسک):وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے فوڈ سیکورٹی جمشید اقبال چیمہ نے کہا ہے کہ حکومت زراعت،لائیو سٹاک اور انڈسٹری کی بہتری کے لیے تمام وسائل بروئے کا ر لارہی ہے‘عوام کو بین الاقوامی معیار کی سبزیاں،پھل اور زرعی اجناس فراہم کرنا ہماری اولین ترجیح ہے زرعی اجناس کے بیج مقامی سطح پر پیدا کر نے سے کسان خوشحال ہو گا،کسان،صارف اور انڈسٹری کے درمیان توازن قائم کرنا چاہتے ہیں(ن) لیگ کی حکومت میں گنے کے کاشتکاروں کو بہت نقصان پہنچایا گیاملک بھر میں گرین انقلاب لایا جا رہا ہے‘ آئندہ نسلوں کے لئے پانی کو محفوظ کرنا ہو گا جس کے لئے حکومت سنجیدہ ہے ایگریکلچر کے لئے 53 بلین روپے کا بجٹ رکھا گیا ہے روایتی زراعت کو جدید زراعت میں تبدیل کیا جا رہا ہے چولستان میں 60 لاکھ ایکڑ زمین غریب کسانوں کوطویل عرصہ کیلئے لیز پر دی جائے گی ، وزیراعظم عمران خان کسان کنونشن کا افتتاح کریں گے‘جہاں چائے کی پتی کی 5 اقسام لانچ کی جائیں گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔معاون خصوصی نے کہاکہ حکومت زراعت،لائیو سٹاک اور انڈسٹری کی بہتری کے لیے تمام وسائل بروئے کا رلا رہی ہے، زرعی اجناس کے بیج مقامی سطح پر پیدا کر نے سے کسان خوشحال ہو گاکسان،صارف اور انڈسٹری کے درمیان توازن قائم کرنا چاہتے ہیں تاکہ ہر کسی کو اس کا جائز منافع حاصل ہو،ملک بھر میں گرین انقلاب لایا جا رہا ہے آئندہ نسلوں کے لئے پانی کو محفوظ کرنا ہو گا جس کے لئے حکومت سنجیدہ ہے ایگریکلچر کے لئے 53 بلین روپے کا بجٹ رکھا ہے جو پچھلے دور حکومت سے 40 فیصد زیادہ ہے‘پچھلے 3 سالوں میں وفاقی حکومت کا صرف 1.15 سے لے کر 1.60 ارب روپے مختص کیا گیا۔انہوں نے کہاکہ روایتی زراعت کو جدید زراعت میں تبدیل کیا جا رہا ہے پورے ملک میں 22 کروڑ ایکڑ میں سے صرف ساڑھے 5 کروڑ ایکڑ آباد ہے وزیراعظم عمران خان کسان کنونشن کا افتتاح کریں گے جہاں چائے کی 5 ورائٹی لانچ کی جائیں گی ریسرچ سیکٹر میں بہتری کے لیے 4 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اس سال زیتون کے باغات لگانے کے لئے 8 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیاہے ملک بھر میں 1 ارب 35 کروڑ زیتون کے لگانے کی صلاحیت موجود ہے ایک کروڑ ایکڑ زمین پر زیتون کے درخت کی کاشت کی جائے گی گلگت بلتستان، پوٹھوہار ڈویژن،کشمیر،بلوچستان میں یہ باغات لگائے جائیں گے جبکہ حکومت 41 لاکھ درخت لگا چکی ہے۔انہوں نے کہاکہ5کروڑ4 لاکھ جنگلی درخت موجودہیںپہلے سے موجود جنگلی زیتون کے درختوں کی گرافٹنگ کریں گے زیتون کی نرسریوں کو اپ گریڈ کیا گیا ہے اور سپین اور ترکی سے زیتون کے درخت منگوا رہے ہیںاس وقت ہم36 ورائٹی کی زیتون کی فیصل لگا رہے ہیں اوراس پر مزید ریسر چ جاری ہے۔وزیراعظم کے معاون خصوصی نے کہا کہ گندم چاول اور مکئی کل پیداوار44 ملین ٹن ہے اگلے 7 سال میں اس پیداوار کو 80 ملین ٹن تک لے کر جائیں گے ہمارے پاس ڈیڑ ھ ارب سے زیادہ پولٹری ہے اور 10 کروڑ سے زیادہ جانور ہیں اگر مکئی کی پیداوار نہ بڑھاٹی تو ہم چارہ کی طلب پورا نہیں کر سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کپاس،مکئی،گنا،چاول اور گندم کی نئی ورائٹی لگا کر بہتر پیداوار حاصل کر سکتے ہیں اور اپنی ضروریات بھی پوری کر لیں گے،ہمارے پاس روایتی زراعت کا رجحان تھا جس کو بدل کر ہم جدت لا رہے ہیںاس سال انڈسٹری سیکٹر کی کل برآمدات 3بلین سے زیادہ کی ہیںاگلے سال 5 ارب ڈالر کی برآمدات بڑھ جائیں گی کیونکہ نئی مشینری درآمد کی جارہی ہے ٹیکسٹائل کی برآمدات 50 ارب ڈالر تک بڑھ جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ ہمیں سبزیوں اور پھلوں کو کاشت کرنا ہو گا تاکہ زیادہ سے زیادہ زرمبادلہ کمایا جا سکے ہمارے پاس لیبر اور پانی کی کمی ہے جس کی وجہ سے پھلوں اور سبزیوں کو پیداکر کے بہتر منافع کمایا جا سکتا ہے سبزیوں اور پھلوں کی کل برآمدات 13 ملین ٹن ہے جس کو بڑھا کر 70 ملین ٹن کا ٹارگٹ رکھا گیا ہے۔ جمشید چیمہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت پہلی حکومت ہے جس نے ریسرچ کا استعمال کرتے ہوئے ٹشو کلچر ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے کیلا کا ماڈرن بیج پیدا کیا ہے جو بیماریوں کے خلاف زیادہ قوت مدافعت رکھتا ہے جس کی وجہ سے اس سال پیداوار بھی زیادہ ہوئی ہے اسی طرح گنا کی فصل 2021 تک 82 ملین ٹن سے اوپر لے جائیں گے لوکل ضرورت ساڑھے 5 ملین ٹن ہے(ن) لیگ کی حکومت میں گنا کے کاشتکاروں کو لوٹا گیا جب ان سے ریٹ سے کم پر گنا خریدا گیا۔انہوں نے کہاکہ ڈھاٹی لاکھ ٹن آلو کا سیڈ باہر سے امپورٹ کرتے ہیںاگلے سال سے ہم اپنا بیج پیدا کر کے یہ امپورٹ ختم کرنے جا رہے ہیں جس سے کسان کی پیداواری لاگت کم ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ30جون کو وزیراعظم عمران خان کسان کنونشن کا افتتاح کریں گے جہاں چائے کی پتی کی 5 اقسام لانچ کی جائیں گی جن میں تھائم،مکس ہربل ٹی،روز میری،آئیلو‘چیمومائل،جو اس وقت برآمد ہورہی ہے ہزارہ میں ایک لاکھ 58 ہزار ایکڑ پر بڑے پیمانے پر چائے کی فصل لگائی جائے گی اسی طرح ادرک،بادام،پستہ،اسپغول،گرین چائے اور دیگر ڈرائی فروٹ 57 بلین ڈالر کی مارکیٹ ہے جس کو ہم 1100 ارب ڈالر تک لے جانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لارہے ہیں،یونیورسٹیوں اور دیگر ریسرچ سینٹر ز کی معاونت سے اس کا ٹارگٹ حاصل کرلیں گے۔انہوں نے کہاکہ گرین سپر رائس کی نئی ورائٹی سے80 من فی ایکڑ کی بہتر پیداوار حاصل ہو گی چولستان میں 60 لاکھ ایکڑ زمین غریب کسانوں کو طویل عرصہ کے لئے لیز پر دی جائیں گی جہاں شہتوت،بیری،انگور،کھجور اور کاٹن کی کاشت ہو گی اوران پیداوار سے ملک خود کفیل اور کسان خوشحال ہو گا۔انہوں نے کہا کہ آرگینک زراعت کے لئے 2 ارب رکھے گئے ہیں‘حکومت مڈل مین کا کردار ختم کرنے کے لئے 40 ارب روپے کی لاگت سے اسٹوریج قائم کرئے گی جہاں کسان اپنی فصل بیچ کر رقم حاصل کر سکے گا،فوڈ پراسیسنگ کے سیکٹر پر بھی سرمایہ کاری کی جائے گی‘ہم نے ریسرچ سیکٹر میں بہتری لانی ہے جس کے لئے حکومت نے 4 ارب روپے رکھے ہیں14ارب روپے جانوروں کی نسل میں بہتری لانے کے لئے رکھے گئے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں معاون خصوصی نے کہاکہ سرکاری اداروں کو پرائیویٹ نہیں کیا جارہا ہے نہ ہی کسی سرکاری ملازم کو نوکری سے نکالا جا رہا ہے بلکہ اداروں کی ری سٹرکچرنگ اور ریفارمز کر رہے ہیں تاکہ اداروں کی کارکردگی کو بڑھایا جا سکے زراعت کی بہتری کے لئے ہر یونین کونسل میں 2 فیلڈ اسسٹنٹ رکھے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ایک ملین ایکڑ پر سویا بین کی پیدا وار کر کے آئندہ 3 سالوں میں ملک سویا بین کی پیداوار میں خود کفیل ہو جائیں گے اور 2 ارب ڈالر کی سویا بین درآمد کو ختم کر دیں گے اس کے ساتھ ساتھ ڈی آئی خان کو دالوں کا ڈویژن قر ار دے رہے ہیں اور آئندہ دو سالوں میں اس میں بھی خود کفیل ہو جائیں گے۔انہوں نے کہاکہ عوام تسلی رکھے‘حکومت عوام کو بین الاقوامی معیار کی سبزیاں‘پھل اور زرعی اجناس فراہم کرنے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں