36

جو ٹیکس نہیں دیتے ان کو ٹیکس نیٹ میں لائیں گے ، شوکت ترین

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے جو ٹیکس نہیں دیتے ان کو ٹیکس نیٹ میں لائیں گے۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے شوکت ترین نے کہا کہ کورونا کی لہر کے باوجود عمران خان نے دلیر فیصلے لئے ۔ ماضی میں گروتھ قرضے سے لے کر ہوئی ۔ پی ٹی آئی جب حکومت میں آئی تو کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 20 ملین ڈالرز کا تھا ۔ آئی ایم ایف کے پاس جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا ۔ اس بار آئی ایم ایف کی شرائط کڑی تھیں ۔ آج ہماری گروتھ پانچ فیصد ہو چکی ہے ۔ عمران خان نے کنسٹرکشن کی صنعت کی ترقی کیلئے اقدامات کئے ۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے 800 سی سی تک کی گاڑیوں پر ٹیکس چھوٹ کی تجویز دی گئی تھی مگر اپوزیشن اور بزنس کمیونٹی کی جانب سے دی جانے والی تجاویز پر ہم نے غور کیا اور ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ایک ہزار سی سی تک گاڑیوں پر ٹیکس میں رعایت دی جائے گی۔ انٹر نیٹ اور ایس ایم ایس پر کوئی ٹیکس نہیں ہو گا مگر پانچ منٹ سے زیادہ کال پر 75 پیسے ٹیکس لیں گے ۔

شوکت ترین کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت نے پی ایس ڈی پی میں 40 فیصد اضافہ کیا ہے۔ کراچی ٹرانسفارمیشن پلان پر پیسہ خرچ ہو گا۔ حکومتی اقدامات سے معاشی ترقی ہو گی۔ اگلے سال ہمارا سرکلر ڈیٹ مزید کم ہوجائے گا۔ آئندہ دو سال میں آئی ٹی صنعت آٹھ ارب ڈالر کی برآمدات کرے گی۔ چین کچھ صنعتیں ویت نام لے جارہا تھا مگر ہم نے چین کو منا لیا ہے۔ وہ صنعتیں یہاں لائیں گے۔ ود ہولڈنگ ٹیکس کے طریقہ کار کو بھی ختم کر رہے ہیں۔

شوکت ترین کا مزید کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کی جانب سے سخت شرائط رکھی گئی تھیں اوربجلی کی قیمت میں اضافے کا مطالبہ کیا گیا تھا مگر عمران خان نے آئی ایم ایف کو کہ دیا کہ بجلی کی قیمت نہیں بڑھائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں