21

ایف اے ٹی ایف کا پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ، حماد اظہر

اسلام آباد(نیوزمارٹ ڈیسک)وفاقی وزیر برائے توانائی حماد اظہر کا کہنا ہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے 7 نکاتی نئے ایکشن پلان پر ہمیں دو سال کا وقت دیا ہے، ہماری کوشش ہے دو سال کے بجائے 12 ماہ میں پلان پر عمل کرلیں۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ فیٹف کی جانب سے دیا جانے والا 7 نکاتی نیا ایکشن پلان انسداد منی لانڈرنگ سے متعلق ہے، موجودہ ایکشن پلان پہلے والے سے آسان ہے جلد عملدرآمد کرلیں گے۔

حماد اظہر نے بتایا کہ نئے نکات منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنڈنگ سے متعلق ہیں، اس سے قبل پاکستان کو سب سے مشکل ایکشن پلان دیا گیا تھا لیکن ہم نے عمل کیا، پہلے والا ایکشن پلان انسداد دہشت گردی سے متعلق تھا۔

انہوں نے کہا کہ فیٹف نے پاکستان کی کارکردگی کو سراہا ہے، بلیک لسٹ کا کوئی خطرہ نہیں ہے بحث گرے سے وائٹ لسٹ پر آنے کی ہے، گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے ضروری ہے دوسرے ایکشن پلان پر عملدرآمد کریں۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ 27 میں سے 26 نکات پر عملدرآمد کرچکے ہیں، گرے لسٹ پر رہنے میں ہم پر کوئی پابندیاں نہیں لگیں گی، فیٹف صدر نے پاکستان کے مثالی کردار کو سراہا ہے۔

حماد اظہر نے کہا کہ گرے لسٹ سے نہیں نکلے لیکن پاکستان کے کردار کی تعریف کی گئی، 2018 میں دئیے گئے 82 نکات میں سے 75 پر عملدرآمد کرلیا گیا ہے، گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے پہلے اور موجودہ دونوں ایکشن پلان پر عمل ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ فیٹف کے پلیٹ فارم پر بھارت کا اصل چہرہ بے نقاب ہوگیا، سب کو پتا ہے بھارت کا مقصد ہے فیٹف پلیٹ فارم کو سیاست زدہ کرے، بھارت کی حرکتیں واضح ہوچکیں ہیں‌ اور وقت کے ساتھ اپنا وزن کھوتی جارہی ہیں۔

حماد اظہر کا کہنا تھا کہ فیٹف نمائندگان کو بھی بھارت کی حرکتیں معلوم ہوچکی ہیں، بھارت کی ایک ہی کوشش ہے پاکستان کو کسی طرح بلیک لسٹ کرے، پاکستان کے بہترین اقدامات کی وجہ سے بھارت کو منہ کی کھانا پڑی۔
ایف اے ٹی ایف کا ورچوئل اجلاس 21 سے 25 جون تک پیرس میں جاری رہا جس میں پاکستان کے بارے میں ایشیا پیسیفک گروپ کی رپورٹ پر غور کیا گیا۔

ایف اے ٹی ایف کے مطابق پاکستان گرے لسٹ میں برقرار رہے گا جبکہ پاکستان نے 2018 کے ایکشن پلان کے 27 میں سے 26 اہداف حاصل کرلیے ہیں۔

ایف اے ٹی ایف نے بتایا کہ پاکستان کی پیشرفت پر اطمینان ہے، پاکستان کو سزا کے نظام کو بہتر بنانا ہوگا اور یواین کے نامزد کردہ 1373 دہشت گردوں کو سزائیں دینا ہوں گی۔

ایف اے ٹی ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان کو آخری شرط سے منسلک 6 نکات پر عمل کرنا ہوگ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں