20

سندھ اسمبلی میں صرف اپنے فائدے کے قوانین بنائے جاتے ہیں،حلیم عادل شیخ

کراچی (نیوزمارٹ ڈیسک)تفصیلات کے مطابق سندھ اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ نے سندھ ہائی کورٹ میں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا ہے کہ مراد علی شاہ پی ایس 73 سے منتخب ہوئے تھے، جھوٹے حلف نامے جمع کروائے گئے تھے، مراد علی شاہ 62,63 کے مطابق صادق اور امین نہیں ہیں

ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے دہری شہریت کے باوجود 2007 میں الیکشن لڑا تھا ،ان کو 2013 میں سپریم کورٹ نے نااہل قرار دیا تھا، الیکشن کمیشن میں جھوٹے حلف نامے دیئے گئے تھے۔

حلیم عادل شیخ کا کہنا ہے کہ ہم نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ مراد علی شاہ کو نااہل قرار دیا جائے، ہم سندھ اسمبلی سے ناامید ہوچکے ہیں، ہم نے نااہل اور کرپٹ وزیر اعلی کے خلاف پٹیشن فائل کی ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ سندھ میں زرعی پانی کی چوری کے خلاف آئینی درخواست دینے جارہے ہیں، کتوں کے کاٹے جانے اور گندے پانی کی فراہمی کے لئے بھی عدالت سے رجوع کریں گے۔

حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ اومنی گروپ اور ٹریکٹر سبسڈی اور روشن سندھ کے آبادگاروں کی سبسڈی میں اربوں روپوں کی کرپشن کی نیب میں انکوائری چل رہی ہے، سندھ میں 43 لاکھ ایکڑ اراضی کی جعلی الاٹمنٹ کی جوڈیشل انکوائری ہونی چاہیئے، دس لاکھ ایکڑ زمین کی جعلی الاٹمنٹ کرکے ریکارڈ جلا دیا گیا ہے، سپریم کورٹ میں لاکھوں ایکڑ اراضی کی جعلی الاٹمنٹ کے خلاف آیئنی درخواست دے رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ پولیس کے سپاہیوں کو قتل کرنے والے ڈاکو صوبائی وزیر کے محافظ ہیں، کچے کے ڈاکؤں کے سرپرست پکے ڈاکو ہیں، نیب کے چھاپوں کے بعد کچے کے ڈاکو محمد میاں سومرو کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔

حلیم عادل شیخ نے مزید کہا ہے کہ بلاول کے زیر استعمال جہاز سندھ حکومت کا ہے، کس قانون کے تحت وزیر اعلی کا جہاز بلاول استعمال کررہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں