47

کشمیری عوام کےلئےہم کل جنگ شروع کردیں گے ،بلاول بھٹو زرداری

مظفرآباد(نیوزمارٹ ڈیسک)پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹوزرداری نے کہا ہے کہ کسی کو کشمیر کا سودا نہیں کرنے دینگے ،کشمیر کا فیصلہ کشمیرکے عوام کریں گے ، کشمیری عوام حکم کریں تو کل جنگ شروع کردینگے، مقبوضہ کشمیر میں تاریخ کا بدترین ظلم وجبر ہورہا ہے اور بنی گالہ کا کٹھ پتلی خاموش ہو،ہم مودی کےالیکشن جیتنے کے لئے دعا مانگتے نہ اس کو شادیوں پر دعوت نہیں دیتے ۔عباس پور میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ پیپلزپارٹی ختم ہوچکی ہے ،پیپلزپارٹی کل بھی زندہ تھی اور آج بھی زندہ ہے اور آنیوالے کل میں بھی

پاکستان پیپلزپارٹی ہی نظر آئے گی ۔یہ تو آپ کے لئے ٹریلر ہے ،ہم اب میدان میں پہنچ چکے ہیں ،شہید بی بی نے اپنے جیالوں کیساتھ ملکر جدوجہد کی ،کشمیر کے جیالوں نے قائد ایوان کا ساتھ دے کر تاریخ رقم کی تھی ، کشمیر کی مائوں بہنوں نے شہید بی بی کاساتھ دے کر تاریخ رقم کی تھی ، مسلم امہ میں پہلی خاتون وزیراعظم بنی تھیں اور انشا اللہ پچیس جولائی کو آپ آزادکشمیر کےوزیراعظم کو منتخب کرکے اسلام آباد کی طرف ہم رخ کریں گے ،بنی گالہ کی طرف ہم آئیں گے اور وہاں سے کٹھ پتلیوں کو بھگائیں گے ۔بلاول بھٹوزرداری نے کہاکہ آپ جانتے ہیں کہ یہ الیکشن کتنے اہم ہیں یہ تاریخ کا سب سے اہم ترین الیکشن ہے اس میں آپ ووٹ کی طاقت سے آر پار آپ ایک پیغام ہوگا کہ کشمیر کاسودا نہ منظور۔جب ہم کہتے ہیں کہ کشمیر کا سودا نہ منظور ہے تو اس کا مطلب ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں جو سب کچھ ہورہاہے وہ آزادکشمیر کے عوام کے لئے ناقابل برداشت نہ ہے ،ہم مودی کےالیکشن جیتنے کے لئے دعا نہیں مانگتے ،ہم مودی کو شادیوں پر دعوت نہیں دیتے ،

ہم مقبوضہ کشمیر کےمسلمانوں کیساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں، ہم مودی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جواب دیں گے ، ہم یہ نہیں برداشت کرسکتے کہ تاریخ کا بدترین ظلم وجبر مقبوضہ کشمیر میں ہورہا ہے اور بنی گالہ کا کٹھ پتلی خاموش ہو۔ہم یہ برداشت نہیں کرسکتے کہ اس طرف ظلم کے ریکارڈ توڑےجارہے ہیں اور ہمارےہاں کٹھ پتلی اسمبلی میں کہتا ہے کہ میں کیا کروں؟ہم تو جیالے ہیں ہمیں قائد ایوان نے سکھایا ہے کہ ہزار سال جنگ لڑنا پڑے تولڑیں گے لیکن ہم کشمیریوں کو تنہا نہیں چھوڑ سکتے ، ہم جیالے ہیں ہمیں بچپن سے شہید بی بی یہ سکھاتی تھیں کہ جہاں ہمارے کشمیری بہن بھائیوں کاپسینہ گرے گا وہاں ہمارا خون گرےگا ،عباس پور کےعوام سے پوچھتاہوں کہ ایک طرف مودی کاظلم ہورہا ہے اوردوسری طرف عمران خان کہتاہے کہ کشمیر ہائی وے کو ہم سری نگر ہائی وے کا نام دےرہے ہیں،عمران خان کا منہ توڑ جواب مودی کو یہ ہوتا ہے کہ ہم اپنے نقشے میں تبدیلی کرکے دکھائیں گے کشمیر ایسا ہونا چاہیے اگر مودی کوجواب دیناہے کہ کشمیر کے نوجوان جواب دیں گے ، ہم سمجھتے ہیں جب تک آزادکشمیر کےنوجوان کھڑے ہیں تب سے ہم کسی کوکشمیر کا سودا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے

،مقدمہ لڑناہے تو ہم نے کشمیر کے عوام کیساتھ ملکرمقدمہ لڑنا ہے ۔پورے پاکستان اور پوری دنیا کو تسلیم کرنا ہوگا کہ یہاں کے فیصلے صرف اورصرف کشمیر کے عوام کریںگے ، ہم کشمیریوں کے حکم پر چلتے ہیں آپ حکم کریں کہ امن ہوگا تو کل امن قائم ہوجائے گا ، آپ حکم کریں گے تو جنگ ہوگی تو کل جنگ کریں گے ،کشمیر کسی ڈکٹیشن پر نہیں چلتا، کشمیری کسی کی ڈکٹیشن نہیں مانتے ، وہ کسی کے دبائو میں نہیں آئیں گے جو فیصلہ کشمیری کریں گے اسلام آباد اور نئی دہلی دونوں کا ماننا پڑے گا ۔یہ ہمارا فلسفہ ہے اور یہ پیپلزپارٹی بنی ہے تب سے ہمارا فلسفہ یہی ہے۔ہمارا نعرے سب پر بھاری رائے شماری ، رائے شماری۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں