60

تلو بروق، دیومالائی کہانیاں اور طلسماتی سرزمین،ڈاکٹر ذاکر حسین ذاکرؔ

یوں تو بلتستان کی سر زمین کے چپے چپے میں کوئی نہ کوئی دیومالائی کہانی موجود ہے۔ بالخصوص دیوتا کیسار سے منسوب حجری آثار ہر وادی میں ہیں۔ پریوں، اور دیوی دیتاؤں جن کو مقامی زبان میں ہلا اور ہلامو کہتے ہیں ، ان کی کہانیاں صرف ماضی بعید کی نہیں بلکہ ماضی قریب اور دور حاضر کی بھی موجود ہیں۔
ان ماورائی اور دیومالائی کہانیوں کے پیچھے کئی راز چھپے ہیں۔ اول تو یہ کہانیاں بذات ِخود کئی رازوں کے امین ہیں۔اور ثانیاً ان میں ذہنِ انسانی کی تخلیقی صلاحیتوں، زبان و ادب اور فصاحت و بلاغت کے ساتھ اظہار ِرائے کے دلچسپ مظاہر کا سراغ ملتا ہے۔ان کہانیوں میں انسانی فکرکی ارتقا، تہذیب و ثقافت، غیر معمولی واقعات کی توجیہہ ، ماضی کی ذہانت اور ٹیکنالوجیز کا معیار، تاریخ کی دھندلکوں میں اہم واقعات کی نشاندھی اور ماضی کے تہذہبی ورثے اور آثار قدیمہ کی نشانات بھی ملتے ہیں۔
تہذیبی آثار کے ایک طالب علم کی حیثیت سے مجھے ان کہانیوں میں کافی دلچسپی رہی ہے۔ اور جب بھی کوئی غیر معمولی کہانی سنتا ہوں، ان کے آثار کی تلاش کا شوق بڑھتا ہے۔ میں پچپن سے اپنے والد محترم اخوند روزی سے مولا علی علیہ السلام سے منسوب ایک معجزے کی بحرِ طویل سنتا آرہا تھا، جو کم و بیش ڈیڑھ سے دو سوسال قبل غالباً بوا جوہر نےشعری پیرائے میں تخلیق کیا تھا۔ اس بحرِ طویل میں مولا علیؑ ایک سائل کو لے کر معجزاتی انداز میں صحرائے عرب سے دور دراز ایک شہر یا آبادی میں پہونچتے ہیں، جس کا نام بَربَر ہے۔ ممکن ہے اس کا نام برق بَر (یعنی پہاڑوں کے پیچ ) ہو، کیونکہ اس میں پہاڑی وادیوں کا ذکر ہے۔ یہاں پرتین معجزات کا ذکر ہیں جن میں سے ایک معجزہ یہ ہے کہ اس وادی یا شہر میں عوام کے مطالبے پر مولائے کائنات سیلابی پانی کو روک کر چشمے کاپانی جاری فرماتا ہے۔ اس چشمے کے بارے میں بہرِ طویل کے جو الفاظ ہیں ان کے مطابق مولا اپنے ہاتھ کی پانچ انگلیوں کو چٹان میں گاڑ دیتا ہے اور جب ان کو نکالتا ہے تو ہر انگلی کی نشانی سے ایک چشمہ پھوٹتا ہے اور یوں اسی ایک مقام سے سخت چٹانوں کے بیج سے چشمے کے پانچ فوارے پھوٹتے ہیں جو آپس میں مل کر ایک نہایت خوبصورت آبشار تشکیل دیتا ہے۔ یہ آبشار نیچے بہہ کر اس خوبصورت وادی کو سیراب کرتا ہے۔
جب میں نے پہلی بار سنا کہ بلتستان کی وادی روندو کے تلو بروق میں ایک آبشار ہے جو کسی پہاڑ کی عین بیچ سے نکلتے ہوئے پانچ قدرتی چشموں سے تشکیل پاتا ہے اور ان کے بارے میں یہ بھی مشہور ہے کہ انسانی ہاتھ کے پانچ انگلیوں سے نکلا ہے ۔ تو مجھے فورا ً اس یدلٰہی معجزے کا خیال آیا جو بحرِ طویل میں سنا تھا۔ اسے دیکھنے کا شوق بڑھتا گیا۔ مقامی لوگوں سے اس چشمے کے بارے میں مزید تفصیلات معلوم کی تو معلوم ہوا کہ یہ چشمہ تلو بروق کے تقریباً آخری حصے میں موجود ہے جہاں تک پہونچنے کے لیے کم و پیش چھ گھنٹے کا پیدل اور کسی حد تک عمودی سفر ہے۔ میں نے اپنے طور سے اس چشمے کا نام ’’یدلٰہی چشمہ‘‘ رکھا، یعنی یا تو قدرت کی ہاتھوں سے بنا ہوا ہے، یا ولئ خدا کی ہاتھوں کا معجزہ ہے جن کا لقب ہی یداللہ ہے۔
اللہ کے فضل و کرم سے کچھ دیگر آثار قدیمہ کی تلاش اور مطالعے کے ساتھ گزشہ دنوں جولائی کے آخری ہفتے میں اس سفر پر نکلنے میں کامیاب رہا۔ میرے ساتھ میرا چھوٹابیٹا مہلائل علی بھی تھا جواسوہ سکول میں پری نائن کا طالب علم ہے۔ تلو گاؤں میں محمد خان نے ہماری میزبانی کی اور احمد بھائی کو بطور گائڈ میرے ساتھ کردیا۔ احمد بھائی کی دلچسپیاں بھی میری دلچسپیوں سے کافی ملتے تھے۔ ۔ ہم محمد خان اور احمد کے ساتھ گاڑی پرتلو بروق روانہ ہوئے یہ عمودی سفر کم و بیش نصف سنچری یو U ٹرن موڑ پر مشتمل ہیں جہاں پہونچنے کے لئے دِل، گردے کے ساتھ جگر بھی چاہئے۔ کمزور دل والے گاڑی میں اس سفر پر نہ نکلیں۔ تلو بروق ایک نہایت پُر فضا، وسیع اور قدیم طلسماتی گاؤں ہے جہاں دو قلعوں کے ساتھ کئی کہانیاں منسوب ہیں تاہم نہ تو یہ قلعے محفوظ ہیں ، نہ کہانیوں کے آثار۔ ان آثار پر علیحیدہ گفتگو کی ضرورت ہے۔ تلو بروق میں محمد خان کے کسی عزیز کے ہاں کھانا کھانے کے بعد میرا شوق اپنی جگہ لیکن سفر کی طوالت اور مشکلات میں میرے ہاتھ پاؤں کی توانائی اور بلندی پر خون پمپ کرنے کے لئے دل اور پھیپھڑوں کی صحت سے متعلق احباب نے دبے لفظوں میں اپنی تشویش کا اظہار فرمایا۔ تاہم بفضل ِخدا چونکہ مجھے اپنے ان اہم اعضا کی وفاداری اور صحت پراعتماد تھا ، ہم نے عزِ مِ صعود کرہی لیا اور منزل کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے میں تلو بروق گاؤں سے اصل بروق کی جانب خواتین ،بچے ، جوان کے ساتھ بار بردار گدھے بھی محو سفر تھے۔ تین گھنٹوں کی پیدل سفر کے بعد قریباً شام ہو نے والی تھی۔ اور ہم تلو کے بالائی بروق پہنچ چکے تھے۔ چیڑ کی لکڑی کے بنے ہوئے چھوٹے چھوٹےہَٹس پر مشتمل یہ دلفریب طلسماتی گاؤں تلو بروق والوں کی گرمائی تین مہینوں کی رہائش گاہ ہیں ۔ برف پوش پہاڑوں کی دامن میں ہر طرف سبزہ، چشمے، پھول، دور دور ایک آدھ ہَٹس کے سامنے کھیلتے بچے، قرینے میں چرتے جانور،سائڈز پرگھنے جنگل ، واقعی ستاروں کے ہمسائے میں ایک دیومالائی اور پریوں کی سر زمین لگتا ہے۔ یہاں پر بالائی بروق کے لئے ایک اور گائڈ ناصر بھائی اور مبارک نےہمیں جوائن کیا۔ سرِ شام ہمیں ایک برانگسہ یا ہَٹ پر لے گیا جہاں اسّی سالہ ایک صحت مندبزرگ سے ہماری ملاقات کرائی گئی۔ ان کا نام ریٹائرڈ حوالدار ولی تھا جو نہ صرف تاریخی کہانیوں کا امین تھا بلکہ بلتی ، شینا اور اردو میں شاعری بھی کرتے تھے۔ ہم ان کی شاعری سے محظوظ ہوئے، آبشار کی کہانی سنی، ان کی پیش کردہ گرما گرم دوھ کا مزا بھی لیا ۔
حوالدار ولی کے مطابق چشمے اور آبشار کی مقامی کہانی کچھ یوں ہے کہ دو بھائی تھے سُرل اور پُرل۔ (کسی زبان میں سُرل اور پُرل کے معنی ہو تو اطلاع دیجئے)یہ دونوں موجود آبشار کے قریب ہر سال قربانی دیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ قربانی کا جانور لے کر وہاں پہنچے تو معلوم ہوا کہ چھری لے کر نہیں آیا ہے۔ پُرل چھری لینے واپس آگیا، تو اسی اثنا میں جانور نے ایڑی زمین پر ماری اور زمین کھودا تو یہاں سے ایک چاقو بر آمد ہوا۔ سُرل نے اس چھری سے جانور کی قربانی کر دی، گوشت چولھے پر چڑھایا تو اتنے میں کچھ پریاں نمودار ہوئیں اور سُرل کو پرستا ن لے گیا۔ بھائی چھر ی لے کر پہنچا تو جانور ذبح ہو چکاتھا، گوشت پک رہا تھا لیکن بھائی غائب تھا۔ اس نے ادھر اُدھرڈھونڈا اور آواز دی تو سامنے پہاڑ سے آواز آئی ، کہہ رہا تھا ’’ بھائی جان میں تو پرستان پہنچ چکا ہوں، واپس نہیں آپاؤں گا۔ میں اس چٹان سے اپنا ہاتھ باہر نکالتا ہوں، یاد گار کے لئےآپ انہیں کاٹ دیجئے۔ اگر میرے انگلیوں کی مقام سےخون نکلیں تو بھاگ جائیں ، خطر ہ ہے۔ اگر ان سے دودھ نکلیں تو رُک جائیں ، دودھ کے بعد پانی نکلے گا۔ بھائی پُرل نے ہدایات پر عمل کیا تو انگلیوں کے نشان سے دودھ بہنے لگا، پھر پانی جاری ہوا اور آج تک یہ سُرل پُرل چشمہ کا آبشار موجود ہے۔ ‘‘
حوالدار ولی کے پریوں والی کہانی کے ساتھ ہم نے خوابوں میں پرستان جانے کی تیاری کر لی۔ قریبی امام بارگاہ میں سو گئے۔صبح پانچ بجے اٹھے اور منزل کی طرف روانہ ہوئے۔ تین گھنٹوں کی سفر کے بعد ہمیں دور سے ’’سُرل پُرل آبشار اور چشمہ یدلّٰہٰی ‘‘نظر آیا۔ آبشار کی مخالف سمت کی پہاڑی سے آبشار کی فوٹو کافی بہتر لی جا سکتی ہے۔ فوٹوگرافی اور رون تبصرے کے لئے احمد اور ناصر دونوں موجود تھے۔ واقعی خشک پہاڑ کے بالکل بیچ سے پانچ دھاری آبشار نمودار ہورہا ہے۔ مقامی شاہدین کے مطابق اس چٹان میں دو انچ پائپ کے برابر قریب قریب میں پانچ سوراخ ہیں جہاں سے یہ زور دار چشمے پھوٹے ہیں۔
یہ آبشار کسی پری کے زلفوں کی طرح نکلتی ہوئی کافی نیچے پہنچ کر پتھروں کے بیچ غائب ہوجا تا ہے۔ آبشار کے آس پاس ایک خاص قسم کی درخت ہے جسے بلتی میں ستق پا کہتے ہیں۔ اس کی چھال سے تیار شدہ کاغذ نکلتا ہے جس پر تعویز ات لکھے جاتے تھے۔ اس کاغذ پر ’ا‘ قدرتہ طور پر پرنٹ ہوتا ہے، جسے کچھ مذہبی اور روحانی ذہن والے اسم اللہ سے بھی تعبیر کرتے ہیں کیونکہ اسم اللہ الف کا مجموعہ لگتا ہے۔
ہم نے چشمہ یدلٰہی سے سیر ہو کر پانی پیا، منہ ہاتھ دھویا اور ایک بوتل پانی بھر کر واپسی کا رخت سفر باندھ لیا کیونکہ ہمیں واپس پہنچنا بھی تھا، کاش وقت کی تنگ دامانی اور زمہ داریاں نہ ہوتی تو انہیں چشموں اور سبزہ زاروں میں کھویا رہتا۔ فطرت پسند سیاحوں کے لیے یہ وادی واقعی کسی پرستان سے کم نہیں۔ جہاں تین اور دیومالائی کہانیاں بھی ہیں۔ اس آبشار والے پہاڑی کے اوپر پریوں کی پولو گراؤنڈ، اس کے سامنے دیویوں کی پھاٹک اور اس پہاڑی کے پیچھے پریوں کی کیاریاں موجود ہیں۔ ان تمام مقامات کی مقامی شینا ور بلتی نام موجود ہیں۔ جو واقعی اس طلسماتی سر زمین کی دیو مالائی اور معجزاتی حقائق کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔
اگر آپ کا دل صحت مند ہے، وزن پاؤں کے لئے قابل برداشت ہے اور پیٹ سینے سے باہر نہیں نکلا ہوا تو اس سفر پر خوش آمدید۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں