41

مسئلہ کشمیر کا مستقل حل،اقبال حسین اقبال،گلگت

مکرمی!دنیا کے نقشے پر پاکستان کا وجود بھارت کو ہمیشہ سے کھٹکتا رہا ہے۔حسد و فریب کی آگ میں جلنے والے بھارت نے لا الہ الا اللہ کے نام پر بننے والی مملکت کو مٹانے کے لئے متعدد بار مکاری سے وار کئے’لیکن ہر بار اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔بھارت نے ایک بار پھر اپنے ناپاک عزائم کو عملی جامہ پہنانے کے لیے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آرٹیکل 370 کا خاتمہ کر کے مقبوضہ کشمیر کی خود مختاری پر وار کیا ہے اور اپنے سپاہیوں کو کشمیر میں اتار کر کشمیر کو جیل خانہ بنا دیا ہے’جس کی وجہ سے جنت نظیر وادی مرگھٹ و شمشان کا منظر پیش کر رہی ہے۔پلوامہ حملے کی آڑ میں کشمیر کو فلسطین بنانے،سی پیک کے منصوبے کو سبوتاژ کرنے،بلوچستان اور گلگت بلتستان کو توڑنے کا مشن لے کر آنے والی مودی سرکار کے ناپاک ارادے بتا رہے ہیں کہ وہ کسی بھی وقت پاکستان پر ہلا بول سکتا ہے۔اس سے پہلے کہ وہ پاکستان پر حملہ کردے’ہمیں اُس کی ارتھی جلانے کا سامان تیار کر لینا چاہیے۔

یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ تقسیم ہند کے وقت تقریباً 568 ریاستوں کو ان کی خواہش کے مطابق پاکستان یا بھارت سے الحاق کرنے یا پھر اپنی آزاد حیثیت برقرار رکھنے کی اجازت دی گئی اور ساتھ ہی ان ریاستوں کے راجاؤں کو اس بات کا پابند بنایا گیا تھا کہ وہ عوام کی اکثریت کے فیصلے اور جغرافیائی اہمیت کو بھی مد نظر رکھیں گے۔اس حوالے سے وادیِ کشمیر کی سرحدیں پاکستان سے جڑ سکتی ہیں۔قائداعظم محمد علی جناحؒ اور کشمیری مسلمانوں کو قوی امید تھی کہ کشمیر کا الحاق صرف اور صرف پاکستان سے کیا جائے گا لیکن بھارتی نیتاؤں نے خود ساختہ ڈرامہ رچایا تھا کہ 26 اکتوبر 1947ء کو مہا راجہ ہری سنگھ کی دعوت پر وی پی کرشنا مینن دلی سے جموں گئے تھے اور بھارت سے الحاق کے دستاویز پر دستخط کئے ہیں۔بھارت نے اس خود ساختہ جھوٹ کو پروان چڑھاتے ہوئے کشمیر پر ناجائز قبضہ کیا۔فریب پر مبنی اس خود ساختہ کہانی کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج تک اس جنتِ نظیر وادی کو اقوامِ عالم مسئلہ کشمیر کے نام سے جانتی ہیں۔

پچھلے چوہتر سالوں سے کشمیر میں بھارتی فورسز کی جانب سے خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے۔کشمیریوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق 1989ء سے اب تک ایک لاکھ سے زائد کشمیری شہید ہو چکے ہیں’لیکن تمنائے آزادی اور جزبہ حریت کو بندوق و بارود سے نابود کرنا ممکن ہوتا تو تحریکِ آزادیِ کشمیر کب کی دم توڑ چکی ہوتی۔بھارتی فوج کے انسان سوز مظالم کے آگے کشمیر کے غیور عوام سر پر کفن باندھے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہیں’مگر افسوس صد افسوس بھارتی ظلم و بربریت پر نام نہاد مسلم تنظیمیں اور انسانی حقوق پر کام کرنے والی تنظیمیں خاموش تماشائی بنے ہیں جبکہ ہمارے سیاست دانوں نے مسئلہ کشمیر کو صرف اپنی سیاسی دکان چمکانے کا ذریعہ بنایا ہے اور ہمارے دانشور اور دفاعی ماہرین بھی اس مسئلے کا مستقل حل نکالنے میں بری طرح ناکام ہیں۔

پاکسان کو توڑنے کے لیے بھارت،امریکہ،اسرائیل اور متعدد شرقی و غربی ممالک کی کڑیاں آپس میں مربوط ہیں جبکہ ہمارے حکمرانوں کی سادگی یہ ہے کہ کشمیر کی حل کے لئے اخباری بیانات اور اسمبلی میں دھواں دھار تقاریر کے ذریعے دل بہلا رہے ہیں۔اس سے پہلے کہ پانی سر سے گزر جائے ہمارے حکمرانوں کو دلیرانہ فیصلے اور ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔عالمی قوانین کے خلاف بھارت کی کھلی انحراف پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریز نے شدید الفاظ میں مزمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کے اصولوں کے مطابق ہی حل ہو گا۔لہٰذا بھارت کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے سے باز رہے۔بھارتی چال بازی پر وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان نے شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اپنی آخری کارڈ استعمال کر چکا ہے۔ہم کشمیریوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ہمسایہ ملک چین نے بھی پاکستان کی کھلی حمایت کا اعلان کیا تھا۔اب پاکستان کو چاہیے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے مستقل حل کے لیے حقیقی پیش قدمی کرے اور مزید ممالک کو اکھٹا کر کے یک زبان ہو کر عالمی اداروں پر دباؤ ڈالیں کہ اقوام متحدہ کے قراردادوں کے پیشِ نظر کشمیریوں کو حقِ خودارادیت دیا جائے تاکہ مسئلہ کشمیر حل ہو سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں