47

افغان طالبان کاماضی اورمستقبل،غورطلب۔مہرمحمدحسنین ہراج

غورطلب۔مہرمحمدحسنین ہراج
“راج توجاۓ پررواج نہ جاۓ”یہ وہ مقولہ ہے جسے قدیم ہندوستان میں بعض قبائل اور راجاؤں کی طرف سے ہمیشہ اہمیت دی جاتی تھی یعنی راج جاتاہے توجاۓ پررواج کونہ چھوڑاجاۓ اسی طرح افغانستان میں بھی یہ مقولہ تب اہمیت اختیارگیاجب نائن الیون واقعہ کے بعدامریکہ سمیت یورپی یونین نے اسامہ بن لادن کی حوالگی کامطالبہ کردیامگرآج اس دورمیں ہم نے اپنی آنکھوں سے اس مقولہ کی اہمیت کواجاگرہوتادیکھاجب طالبان نے راج کوتوچلتاکیامگرمہمان کواس کے دشمن کے حوالے نہ کرنے کی اپنے رواج کونہ بدلا افغانستان میں پناہ لینے والے مہمان کو بڑی قدرکی نگاہ سے دیکھاجاتاہے۔ نائن الیون واقعہ نے جہاں امریکہ اوریورپی برادری کوغمزدہ کردیا وہیں پرپوری دنیاکوجھنجوڑکررکھ دیا بہرحال اس واقعہ کی امریکی تحقیقات جب مکمل ہوئیں تو موردالزام طالبان اوربالخصوص اسامہ بن لادن اوراسکے عسکری ونگ کوہی ٹھہرایاگیا۔ان دنوں اسامہ بن لادن افغانستان میں بطورمہمان پناہ لے چکاتھااسامہ بن لادن کی حوالگی کے مطالبے کوطالبان نے جوتی کی نوک پررکھتے ہوۓ امریکہ کوواضع اورصاف انکارکردیانتیجے کے طورپریورپی یونین سمیت امریکہ نے طالبان کے اس انکارکوہٹ دھرمی سمجھتے ہوۓ آغازجنگ کاطبل بجادیاافغانستان میں ایک خوفناک اورخونریزلڑائی چھڑگئی طالبان نے اپنی حکومت کے خاتمے کوتوبرداشت کرلیامگراسامہ بن لادن جیسے مہمان کوامریکہ کے حوالے نہ کیا آج21سال بعدمذاکراتی بیٹھک کے زریعے ایک طویل جنگ کے خاتمے پرجب افغانستان سے امریکی انخلاء شروع ہوا توکچھ علاقے جن میں نیٹوفورسسزکامیاب نہ ہوسکیں وہ طالبان کے زیرکنٹرول ہی رہے ان علاقوں میں رہ کرطالبان نے آنے والے وقتوں میں کامیابی کے حصول کیلئےبھرپورتیاری جاری رکھی اورخفیہ پلاننگ کے زریعے اپنی قوت میں اضافہ کرتے رہے امریکی انخلاء کے محض 9 دنوں بعدطالبان فورسزکاپورے افغانستان پرلشکرکشی کے زریعے کنٹرول حاصل کرنااورکابل پرجھنڈالہرادینانہ صرف اچنبھے کی بات ہے بلکہ پوری دنیاکوورطہ حیرت میں ڈال دیاہے۔پھراس سے بڑھ کرجوحیرانگی کی بات ہے وہ یہ ہے کہ بغیرکسی بڑی خونی جھڑپ کے طالبان کااتنے وسیع علاقہ پرقبضہ جمالینااسے طالبان کی 21سال کی بہترین منصوبہ بندی قراردیاجاۓ یایہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات مستقبل میں آشکارہونگے۔طالبان کی پے درپے فتوحات اورکامیاب لشکرکشی پرآج امریکہ سمیت پوری دنیانہ صرف حیران وپریشان ہے بلکہ اکثرممالک تو اسے عالمی امن کیلئے خطرہ قراردے رہے ہیں امریکی صدرجوبائیڈن کاحالیہ بیان کہ ہمیں یہ توقع نہ تھی کہ طالبان اتنی جلدی کامیاب ہوجائیں گے اس کامطلب ہواطالبان کی جنگی تیاری کے متعلق امریکن انٹیلیجنس بالکل ناکام رہی اورافغانستان میں جن فورسسزکی جنگی تربیت وتیاری پرعربوں ڈالرزخرچ کرتے ہوۓ امریکن مشغول رہے وہ ریت کی دیواریں ثابت ہوئیں۔اوریہ اس بات کاثبوت ہے کہ امریکی تھنک ٹینکس نے دونوں اطراف کے اندازے غلط لگاۓ۔افغانستان پرطالبان کے دوبارہ قبضہ کرنے کیوجہ سے امریکہ میں اک نئی بحث چھڑگئی ہے صدرجوبائیڈن نے بیان دیاہے کہ میں پانچویں امریکی صدرکو افغان وارکانقشہ نہی دکھاناچاہتایہ بات بھی کچھ حلقوں کی جانب سے کہی جارہی ہے اگرافغانستان کوپھرطالبان کے حوالے کرناتھاتوجن امریکیوں کی وہاں پراموات واقع ہوئیں ان کاجوابدہ کون ہوگابہرحال یہ توامریکہ کااندرونی معاملہ ہے چلتے ہیں پھرافغانستان کیطرف اس مرتبہ جونئی بات دیکھنے کومل رہی ہے کہ 90کی دہائی والے طالبان کیساتھ موجودہ طالبان کاموازنہ کیاجاۓ تویہ طالبان ان سے نہ صرف مختلف ہیں بلکہ اپنے رویوں میں نرمی ظاہرکرتے ہوۓ ایک دیرپاامن کے بھی خواہشمند ہیں اورقتل وغارت گری سے بالکل اجتناب کررہے ہیں
حالانکہ ستمبر1996کے آخرمیں چارسالہ خانہ جنگی کیبعدجب طالبان نے کابل پرقبضہ کیاتواسوقت کے افغان صدرنجیب اللہ کوگرفتارکرنے کیبعدتشددکے ساتھ قتل کردیاگیااوراس کی لاش ٹریفک پوسٹ پرلٹکادی گئی اس مرتبہ بھی افغان صدراشرف عنی کوگرفتارکیاجاسکتاتھامگرطالبان نے اسے بھاگنے کاپوراپوراموقع فراہم کیااب وہ اپنی کابینہ کے اکثرممبران کیساتھ براستہ تاجکستان ابوظہبی میں پناہ لے چکاہے۔جن اعلی حکومتی عہدیداران کوگرفتاکیاانہی معافی مل چکی ہے جن فورسزنے سرنڈرکیاانہی کوئی سزانہ دی گئی غرضیکہ پورے افغانستان میں عام معافی کااعلان کردیاگیاہے۔اقلیتوں کومکمل مذہبی آزادی دی گئی ہے سابقہ حکومت کے کئی افسروں کوبھی ان کے عہدوں پربحال رکھاجارہاہے۔اسی طرح عورتوں کیلئے بھی نرم گوشہ اختیارکئے ہوۓ ہیں حالانکہ طالبان کے سابقہ دورحکومت میں انہیں ان لوگوں سے نفرت تھی جوخواتین کے حقوق کی بات کرتے تھے ان کاکہناتھاعورت کیلئے صرف دوہی جگہیں ہیں ایک ان کاگھراوردوسری قبرمگراس مرتبہ توعورتوں کوبھی معمولات زندگی اوردفتری اوقات میں ڈیوٹی سرانجام دینے کی اجازت مل چکی ہے۔دوسری طرف خطے کی عسکری صورت حال کاجائزہ لیاجاۓ توانڈیاکے اندرصف ماتم بچھ چکاہے۔چونکہ افغانستان میں امن کاقیام پاکستان کیلئے خوش آئندعمل ہوتاہے۔جوانڈیاکوکسی بھی صورت گوارہ نہی بہرحال طالبان خطے کی عسکری اورسیاسی صورت حال پراثراندازتوہورہے ہیں مگردیکھنایہ ہے کہ مستقبل میں ان کی پالیسیوں سے عالمی برادری کا بھی اتفاق ہوتاہے یانہی لیکن اس مرتبہ طالبان کولازمی طورپردنیاکے بدلتے حالات سے ہرصورت سمجھوتاکرناہوگاتاکہ دنیامیں انہیں ایک امن پسندقوم کے طورپرجاناجاسکے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں