31

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنزبرطانیہ اور یورپ کے لیے فضائی آپریشن میں مزید توسیع کا فیصلہ

اسلام آباد(نیوزمارٹ ڈیسک)پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز نے غیر ملکی فضائی کمپنیوں سے برطانیہ اور یورپ کے لیے فضائی آپریشن میں مزید توسیع کا فیصلہ کیا ہے۔اس سلسلے میں پی آئی اے نے غیر ملکی چارٹرڈ کمپنیوں سے 4 طیاروں کے لیے درخواستیں طلب کر لی ہیں۔ برطانیہ اور یورپی ممالک کی جانب سے پی آئی اے پر پابندی کے باعث پی آئی اے نے پرتگالی کمپنی کا طیارہ عملے سمیت لیز پر لے رکھا ہے جس کے ذریعے برطانیہ کے لیے پروازیں چلائی جارہی ہیں۔ پی آئی اے ان طیاروں کے ذریعے لندن برمنگھم اور مانچسٹر کے لیے فضائی آپریشن کر رہا ہے۔ ترجمان پی آئی اے عبداللہ حفیظ نےمیڈیا کو بتایا کہ ’برطانیہ اور یورپی ممالک خصوصاً فرانس کے لیے چارٹرڈ طیاروں کی غیر ملکی کمپنی سے درخواستیں طلب کی ہیں۔پی آئی اے نے غیر ملکی کمپنی سے 250 نشستوں والی 4 طیاروں کے لیے درخواستیں طلب کر رکھی ہیں جبکہ چارٹرڈ سروس مہیا کرنے والی کمپنی کے پاس انٹرنیشنل ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کا آپریشنل سرٹیفیکیٹ ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

ترجمان کے مطابق ’پرتگالی کمپنی کے ساتھ کی گئی لیز رواں ماہ ختم ہو جائے گی جب کہ نئی کمپنی کے ساتھ 6 ماہ کا معاہدہ کیا جائے گا۔ان طیاروں کے ذریعے پی آئی اے برطانیہ، فرانس اور اٹلی کے لیے فضائی آپریشن جاری رکھے گا۔برطانیہ نے پاکستان سے آنے والی پروازوں کو ریڈ لسٹ سے نکالنے کے بعد اب پاکستان میں لگائی گئی کورونا سرٹیفیکیٹ کی بھی منظوری دے دی ہے جس کا اطلاق 11 اکتوبر سے ہوگا۔ پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ’11 اکتوبر سے پاکستان سے برطانیہ آنے والے مسافر جنہوں نے برطانیہ سے منظور شدہ ویکسین لگوا رکھی ہے نادرا کا سرٹیفیکیٹ استعمال کر سکتے ہیں۔‘’ایسے مسافروں کو صرف برطانیہ پہنچنے کے دوسرے روز پی سی آر ٹیسٹ کروانا ہوگا، جبکہ گھر میں آئسولیشن کی شرط ختم کردی گئی ہے۔ برطانوی حکومت کی جانب سے ایسٹرازینیکا، فائزر، موڈرنا اور جانسن ویکسین کی منظوری دی گئی ہے جبکہ چینی ویکسین کی منظوری تاحال نہیں دی گئی۔ اس سے قبل برطانیہ حکومت کی جانب سے پاکستان میں لگائی جانے والی تمام ویکسین اور سرٹیفیکیٹس کو ناقابل قبول قرار دیا گیا تھا، تاہم 11 اکتوبر کے بعد پاکستان میں ایسٹرازینیکا، فائزر، موڈرنا اور جانسن ویکسین کی دونوں خوراکیں لگوانے والے مسافر برطانیہ پہنچنے پر قرنطینہ کی شرط سے مستثنیٰ ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں