34

کوئی ہمارے پیغمرﷺ کی توہین کرے گا تو اس کا سخت ردعمل دیں گے، وزیراعظم عمران خان

اسلام آباد(نیوزمارٹ ڈیسک)وزیراعظم عمران خان نے اسلاموفوبیا کے معاملے پر مسلم ممالک کو بھی ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ کوئی ہمارے پیغمر ﷺ کی توہین کرے گا تو اس کا سخت ردعمل آئے گا ، اس صورتحال سے نکلنے کیلئے ہمیں ایک لائحہ عمل پراتفاق کرنا ہو گا ۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے مڈل ایسٹ آئی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ چین ایک ابھرتی ہوئی طاقت ہے، افغانستان میں بڑی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں، افغانستان خطے کے ممالک کیلئے اہم تجارتی راہداری ہے، وسط ایشیائی ریاستیں بحر ہند اورافغانستان کےراستے پاکستان تک رسائی حاصل کرسکتی ہیں۔عمران خان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں خانہ جنگی سے بہت تباہی ہوئی ، پاکستان خطے میں اقتصادی تعاون کا فروغ چاہتا ہے، طالبان نے 20سال بعد افغانستان میں حکومت سنبھالی ہے، دنیا کو افغانستان کیساتھ ہر صورت بات چیت کرنی چاہیے، افغانستان کو تنہا چھوڑنے سے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔افغان حکومت کی جانب سے داعش کیخلاف آپریشن کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ داعش سے چھٹکاراحاصل کرنے کیلئے طالبان بہترین آپشن ہیں، طالبان پر پابندیوں سے انسانی بحران جنم لےگا، امریکا کو افغانستان کی صورتحال کی وجہ سے دھچکا لگاہے۔امریکا سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ امریکا شاید اپنے جرنیلوں کے کہنے پر افغانستان میں پھنسا رہا، افغانستان میں امریکا کےجرنیل مزید فوج اور وقت مانگتے رہے، افغانستان میں طالبان کا پرامن انتقال اقتدار ہواہے، اس حوالے سے امریکا کو قائدانہ کردار ادا کرنا ہوگا۔عمران خان نے کہا افغان عوام نے کرپٹ اورکٹھ پتلی حکمرانوں کومسلط دیکھا، امریکی عوام کو افغانستان کی اصل صورتحال سے گمراہ رکھاگیا، ایک کرپٹ اور کٹھ پتلی حکومت کیلئے افغان عوام کیوں ساتھ دیتے۔افغانستان میں جامع حکومت کے حوالے سے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ افغانستان میں ایک جامع حکومت چاہتے ہیں، افغانستان کے پڑوسی ممالک بھی جامع حکومت چاہتے ہیں، افغانستان کے دیہی علاقوں میں خواتین کیلئے ماحول تبدیل نہیں ہوا، کابل کی ثقافت دیگر کے مقابلے میں مختلف ہے، طالبان کی تحریک ایک پختون تحریک ہے۔دہشتگردی کیخلاف جنگ سے متعلق انھوں نے کہا کہ پاکستان میں دہشتگردی کے 16ہزار واقعات ہوئے ، ہم دہشت بگردی کیخلاف 80 ہزار جانوں کا نذرانہ دیا، 50کےقریب مختلف گروپس تھے جو پاکستان میں حملہ آورہوئے، قبائلیوں نے بتایا زیادہ تر شدت پسند ڈرون حملوں کی پیداوار ہیں۔عمران خان کا کا کہنا تھا کہ امریکا کی جنگ کا حصہ بننے پر یہ گروپس پاکستان پر حملہ آورہوئے، امریکا کا ساتھ بن کر کسی ملک نے اتنا نقصان نہیں اٹھایاجتنا پاکستان نے اٹھایا، نائن الیون کے بعد پاکستان کو قربانی کا بکرا بنایاگیا۔وزیراعظم نے بتایا کہ ہم ایسے گروہوں سے بات کررہےہیں جو صلح چاہتے ہیں اور وہ جو ہتھیار پھینک کرنارمل زندگی گزارناچاہتے ہیں ، جو نہیں مانیں گےان کےخلاف ایکشن ہوگا، ہم کسی مسلح تنازع کا دوبارہ حصہ نہیں بننا چاہتے ، مضبوط طالبان حکومت دہشت گردوں سے نمٹ سکتی ہے، افغان حکومت کے بجٹ کا 75فیصد انحصار بیرونی امداد پر ہے۔اسلاموفوبیا سے متعلق عمران خان کا کہنا تھا کہ تمام مسلمانوں کو ہدف بنانے کو اسلاموفوبیاکہتے ہیں، مسلم ممالک نے یہ موقع ہی کیوں دیا کہ دہشتگردی کو اسلام سے جوڑا جاسکے ، اسلاموفوبیا کے معاملے پر میں مسلم ممالک کو بھی ذمہ دار ٹھہراتاہوں ، کوئی بھی مذہب دہشتگردی کو فروغ نہیں دیتا، وائرس کی طرح دہشت گردی کوکسی قوم سےمنسلک نہیں کیاجاسکتا۔وزیراعظم نے مغربی ممالک کے حوالے سے کہا کہ مغرب میں لوگوں کا مذہب پر تصوروہ نہیں جو ہماراہے، مجھے معلوم ہے کہ مغربی ممالک میں مذہب کی کیا صورتحال ہے، مغرب میں رسولﷺ کی اہمیت کونہیں سمجھاجاتا یہ ہم پر ہے کہ واضح کریں، جس طرح یہودیوں کو ہولوکاسٹ سےدکھ پہنچتاہےاسی طرح کااحساس مسلمانوں میں بھی ہے۔عمران خان نے واضح کیا کہ کوئی ہمارے پیغمرﷺ کی توہین کرے گا تو اس کا سخت ردعمل آئے گا ، اس صورتحال سے نکلنے کیلئے ہمیں ایک لائحہ عمل پراتفاق کرنا ہوگا، پاکستان میں توہین رسالت کا قانون موجود ہے،رسول اللہ ﷺکی مسلمانوں کےلیےاہمیت کومغرب میں نہیں سمجھاجاتا، مسلمانوں کے نزدیک رسول اللہﷺکی اہمیت مغرب پرواضح کرنی ہوگی۔مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ مسلم دنیا اس وقت مشکلات کا شکار ہے، شام سے یمن تک ہر جگہ مسلمان مر رہےہیں، دنیا کشمیر کو پاکستان کے اپنے قومی مفاد کا مسئلہ سمجھتی ہے، میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ کیوں دنیا کشمیر کے معاملے پر بات نہیں کرتی، انسانی حقوق کے معاملے پر کیوں بھارت کو تنقید کا نشانہ نہیں بنایاجارہا۔عمران خان نے کہا کی کشمیر متنازع علاقہ ہے جس کی توثیق اقوام متحدہ نے کی ہے،بھارت مقبوضہ کشمیرمیں آبادی کا تناسب بدلنے کی کوشش کررہاہے، کشمیریوں کو ان کا سیاسی ،اخلاقی حق ملنا چاہیے۔کشمیر میں بھارتی جارحیت سے متعلق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بھارت غیر معینہ مدت تک کشمیریوں کو کھلی جیل میں نہیں رکھ سکتا، کشمیر میں صورتحال جتنی خطرناک ہے اس مسئلے کو نظرانداز کردیاگیا، مشرقی تیمورکےلوگوں کواپنےمستقبل کافیصلہ کرنےکاحق دیاگیا، یہ حق کشمیر کے لوگوں کوکیوں نہیں دیاجاتا۔بھارت اور اسرائیل تعلقات کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں بھارت اور اسرائیل بہت قریب ہیں، نریندرمودی اسرائیل کا دورہ کرتا ہے، واپس آکر کشمیر پر چڑھائی کردیتاہے، بھارت کو امریکا کی ویٹو پاور کا اندازہ ہے اس لئے وہ بچ نکلتاہے، دنیا میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی کشمیر میں ہورہی ہے، پاکستان اپنے لوگوں کو اعتماد میں لئے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کرتا۔ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ پاکستان دنیا میں ٹریکنگ کیلئے بہترین ملک ہے، ماحولیاتی تبدیلی کے تحت دیکھ سکتے ہیں درجہ حرارت میں اضافہ ہورہاہے، آئندہ ماہ لندن میں ہونیوالی ماحولیاتی کانفرنس میں شرکت کا سوچ رہاہوں۔عمران خان کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی تبدیلی سے رونما ہونیوالے واقعات پر اب لوگوں کو احساس ہورہاہے، پاکستان جیسے ممالک اپنی حیثیت سے بڑھ کر کام کررہےہیں، ہم پاکستان میں 10ارب درخت لگارہےہیں ، ہم مختلف طریقوں سے پانی کے ذخائر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔انگلینڈ کی جانب سے دورہ پاکستان منسوخ کرنے کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ میں سمجھتاہوں انگلینڈ میں یہ احساس ہے کہ پاکستان جیسے ممالک سے کھیل کر احسان کرتے ہیں، بھارت امیر کرکٹ بورڈ ہے وہ عالمی کرکٹ کو کنٹرول کرتاہے، میں سمجھتاہوں دورہ پاکستان منسوخ کرکے انگلینڈ نے خود کو مایوس کی اہے، اگر پاکستان میں کسی ٹیم کیساتھ کچھ ہوتاہے تو ہماری ذمہ داری ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ میں سمجھتاہوں نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کی ٹیم نے مایوس کیاہے، کورونا کے دوران پاکستان ٹیم انگلینڈ گئی کیونکہ اور کوئی ٹیم جانے کو تیارنہ تھی، پاکستان کی ٹیم انگلینڈ نہ جاتی تو ان کو کیسا محسوس ہوتا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں