33

قومی انتشار کا آخری حل

تحریر: تنویر اعوان
آج کے مسلمان داد وصول کرنے اور واہ واہ سننے کے لیے سچ بولنے کی نمائش کرتے ہیں مگر سچ کے لئےکھڑے ہونےکو تیار نہیں۔ یہی عملِ بزدلی ہمارے مِلّی کردار کی علامت بن چکا ہے اور ہماری اجتماعی تباہی اور زوال کا پیش خیمہ ہے لہذا فوری طور پر نظام کو “اسلامک سوشل ویلیوز” پر اُستوار کرنا بہت ضروری ہے اور اس کے لیے ایسے ایمان والوں کی ضرورت ہے جو کسی بھی طرح کی توقعات کے لالچ سے آزاد ہوں یہاں تک کہ کسی انسان سے اپنے کسی اعلی ترین عمل کی تعریف اور ستائش کی توقع بھی نہ رکھتے ہوں۔ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ایمان سے بڑھکر کسی بھی طرح کے اعزاز اور دنیاوی سہولت کی ان کے دل میں خواہش نہ ہو۔ یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ اسلام اور ایمان کی جو عظمت ہمیں آج نصیب ہے اور دین کی جو عظیم شان اور ناقابل زوال عمارت ہمیں وراثت میں ملی ہے اس کی بنیادوں میں مخلص ترین اور ایمان کو اپنی جان سمجھنے والے حضرت خبیب بن عدی رضی اللہ تعالی عنہ، حضرت سمعیہ رضی اللہ عنہا اور حضرت یاسر رضی اللہ عنہ کی درد ناک شہادتوں کے ساتھ ساتھ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالی عنہ کا اپنے والدین کی دردناک شہادت پر صبر اور عظیم مدد گار اسلام و محسن رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جناب ابو طالب کی شعب ابی طالب میں جان توڑ مصائب اور مشقت پر صبر و برداشت کا بُہت بڑا عمل دخل ہے۔
ایمان کے لیے ان عظیم الشان قربانیوں کی مثالیں جاننے کے باوجود ہم لوگ ظُلم کے خلاف اور سچ کے لئےکھڑے ہونےکو تیار نہیں اور یہی ہمارے قومی کردار کی عالمی سطح پر شناخت بن گئی ہے

خیرالناس کے لیے نکالی گئی خیرالامت کا تو دنیا بھر میں جو حشر ہے سو ہے لیکن پاکستان کے مسلمانوں کا یہ حال تو نہیں ہونا چاہئے تھا؟ کیونکہ ہم نے” امر بالمعروف و نہی عن المنکر” کی عملی تفسیر بن کر دنیا کو ایک عملی نمونہ دکھانا تھا اور اسی عہد اور وعدے پر اللہ سے اپنے آزاد ملک کی دعائیں مانگی تھیں جن کو رمضان المبارک کی مقدس رات میں شرف قبولیت بخشا گیا تھا اور آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا اسلامی ملک ہمیں عطا فرمایا گیا لیکن ہم اپنے ملک کو یزیدوں سے نہ بچا سکے اقتدار کی ہوس نے اللہ سے کیے سب وعدے وعید بھلا دیے اور ہمارے حکمرانوں اور سیاستدانوں نے حکومت پانے اور قائم رکھنے کے لیے “ملک اندر اور باہر” ہر طرح کا سمجھوتہ کیا حتی کہ اللہ اور رسول اللہ صلی علیہ و آلہ وسلم کے احکامات کی پرواہ تک نہ کی اور نظریۂ پاکستان کو دفن کرنے کے لیے حد سے نکل گئے اور قوم نے بھی تھوڑی بہت مزاحمت کے بعد سمجھوتہ کر لیا اور یوں اجتماعی طور پر قرآن میں بتائے گئے ظالم بن گئے اور اس سے بھی تھوڑا آگے نکل کر حکمران اور عوام اجتماعی طور پر اسفل السافلین تک جا پہنچے۔ انسان جب ظلم کرتا ہے تو اسفل بن جاتاہے اور ظلم کو دیکھ کر خاموش رہنے والے، ظلم کا ساتھ دینے والے اور مظلوم کی مدد نہ کرنے والے سب ہی ظالم سمیت اجتماعی طور پر اسفل السافلین بن جاتے ہیں۔بدقسمتی یہ ہے کہ معاشرے میں یہ دونوں طرح کے کردار بدرجہ اتم پائے جاتے ہیں بلکہ ان بچھوؤں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے جن کے آگے کھڑا ہونا اور پل باندھنا لازمی ہو گیا ہے۔ جس کے لیے حق پرست قوتوں کو مفاد سے بالاتر ہو کر اکٹھا ہونا ہو گا۔
مہنگائی کے نام پر آج جو سیاسی ٹولے اکٹھے ہو رہے ہیں یا فضل الرحمن کی زیر قیادت کرپشن میں لتھڑی سیاست کے جو اداکار قوم کی فکر میں ایک ہوئے ہیں کیا یہ بہترین لوگ ہیں؟ کیا یہ ماضی میں ایک دوسرے کی شان میں ”قصیدے ”نہیں پڑھتے رہے اگر ان کی وہ باتیں سچ تھیں تو آج ان کا اتحاد ایسے ہی ہے جیسے کوا اور کوئل ایک جگہ بیٹھے تھے تو کسی نے پوچھا دو دشمنوں کا یہ اتحاد کیسے؟ تو بتایا گیا کہ دونوں زخمی ہیں اور ایک جگہ ساتھ رہنے پر مجبور ہیں۔ اپوزیشن پارٹیوں کا یہ گٹھ جوڑ اس لیے ہے کہ باری باری لوٹ مار کے معاہدے ظاہر ہو گئے اور دونوں اقتدار سے باہر ہیں “گھسیٹنے اور مائیک توڑنے” کے سارے ڈرامے ناکام ہو گئے حبیب جالب کی شاعری شہباز شریف کے منہ سے جچی نہیں اور سرے محل کی ملکیت کے انکاری ہی مالک نکلے ان لوگوں نے عوام کو اتنا مایوس اور گمراہ کیا کہ اب وہ کسی پر اعتبار کرنے کے لیے تیار نہیں۔
اگر لوٹ مار کرنے والے اور شعبدہ باز اکٹھے ہو سکتے ہیں تو حق پرست قوتیں اور ملک کے وفادار عوام کیوں ایک نہیں ہو سکتے؟ 70 کی دہائی میں مائیک توڑنے والے ڈرامہ باز سیاستدانوں نے ملک توڑ دیا اور گزشتہ تین دہائیوں میں پراپرٹی اور لوہے کے بیوپاری سیاستدانوں کے پس پردہ “چارٹر آف ڈیموکریسی” نے عوام کی مالی اور اخلاقی طور پر کمر توڑ دی ہے اب اگر ایک شخص تئیس سالہ جدوجہد کے بعد نوع بہ نوع بٹی عوام کو قوم بنانے کے لیے دن رات ایک کر رہا ہے تو اسے بھی دس سال دے دو اور اعتماد کرو۔لٹیرے حکمرانوں کی لوٹ مار سے پیدا ہونیوالی عوامی بے یقینی نے بے برکتی کے جس عذاب میں ہمیں مبتلا کر دیا ہے اس سے توبہ کریں اور یاد رکھیں کہ قوم اور حکمران دو علیحدہ سمتوں میں چلیں گے تو ملک ترقی یافتہ نہیں بن سکتا
قوم کی نجات نظریۂ ضرورت میں نہیں بلکہ نظریۂ پاکستان پر عمل، ریاست مدینہ کے فلسفے پر یقین اور جدوجہد میں ہے پاکستان کا تحفظ اور مستقبل صرف اسلام سے وابستہ ہے۔ اگرچہ حکومت اب تک کچھ نہیں کر سکی لیکن پھر بھی وزیراعظم دن رات سر گرم عمل ہے اور اپنے ریاست مدینہ کے وعدے پر قائم ہے اور ابھی بھی دن رات سربسجود اور سربکف ہے قائد اعظم اور لیاقت علی خان کے بعد عمران خان پاکستان کا پہلا وزیراعظم ہے جس کی گفتگو کا محور اور وعدوں کی بنیاد اللہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سیرت ، ایمان کے لیے صحابہ کی جدوجہد، ریاست مدینہ اور اسلامی اقدار ہے تو قوم کو چاہیے کہ اعتبار کرے اور قوم کو تقسیم در تقسیم کرنے والوں کی ”لاف زنی ”پر کان نہ دھرے۔ عام آدمی حکومت کے ساتھ ساتھ اپنے اعمال پر بھی کڑی نظر رکھے جو عوام اپنے اعمال پر غور نہیں کرتے اور اپنے حکمران پر اعتبار نہیں کرتے ان پر بے یقینی اور بے برکتی کا عذاب نازل کیا جاتا ہے یقین نہ ہو تو ”دوائی ”بھی اثر نہیں کرتی۔ یقین منزل کو آسان کر دیتا ہے اور جو قوم اچھے کاموں میں اپنے حاکم کی مددگار بنتی ہے اور غلطیوں پر گالی گلوچ کی بجائے رہنمائی اور محاسبہ کرتی ہے اللہ اس قوم پر برکت نازل فرماتا ہے، اس قوم کے پاؤں جما دیے جاتے ہیں ،مشکلات ختم کر دی جاتی ہیں، نعمتوں اور رحمتوں کا نزول کیا جاتا ہے پھر زمین خزانے اگلتی ہے اور آسمان سے زحمت نہیں رحمت برستی ہے ہر ارادہ کامیاب اور ہر منزل استقبال کرتی ہے،یقین کرنے والی قوم کو قدرت کی طرف سے سربلند اور سرفراز کر دیا جاتا ہے۔
پاکستان کو کسی اورآئین و قانون کی ضرورت نہیں ہمارے پاس نظریۂ پاکستان موجود ہے جس کا مرکزی خیال قرآن و سنت پر عمل ہے یاد رکھیے کہ دنیا کا ہر اسلامی ملک قائم رہ سکتا ہے حتی کہ سعودی عرب بھی اگر اسلام سے منہ موڑ کر ملوکیت پر چلتا رہے تو بھی قائم رہ سکتا ہے لیکن پاکستان وہ واحد ملک ہے جو اسلام، قرآن و سنت ، نظریۂ پاکستان اور ریاست مدینہ سے روگردانی کر کے قائم نہیں رہ سکتا۔ یقین اور ایمان کی قوت سے عوام ہر شر کو شکست دے سکتے ہیں امت کے قلندر اور “مبشرِ پاکستان” حضرت علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے کیا خوب سبق دیا ہے
خدائے لم یزل کا دستِ قدرت تو،زباں تو ہے
یقیں پیدا کر اے غافل کہ مغلوبِ گماں تو ہے۔

سیاسی ابتری اور بے رحم بھوک نے خونی انقلاب کے حالات بنا رکھے ہیں اس صورتحال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ لوگوں کے ایمان اور ایمان کے لیے صبر و استقامت پر کام کیا جائے اُنہیں بتایا جائے کہ مکی زندگی کے 13 سال اور مدینہ کے پہلے 6 سال پہت نہیں بلکہ اَزحد تنگدستی اور صبر کے تھے بھوک سے مقابلہ اپنی جگہ لیکن جنگوں پر جنگیں مسلط کی گئیں مسلمانوں پر۔ صحابہ رضوان اللہ اجمعین نے اپنے ایمان کی طاقت سے ہر مُشکل اور مصیبت کو شکست دے دی۔ اُس دور میں اگر مسلمان ایثار کی اعلی مثالیں قائم نہ کرتے ، بیعت رضوان جیسے بظاہر یک طرفہ معاہدےاور مُشکل ترین فیصلے برداشت نہ کرتے تو ؟؟ لیکن آقا کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی محبت اور عفوودرگزر بے پایاں تھے اور انصاف اتنا سخت کہ کسی کو دَم مارنے کی جُرات نہ تھی آج بھی تمام مصائب و الم جن کا قوم کو سامنا ہے اُس کا مقابلہ بھی ایمانی قوت سے ہی کیا جا سکتا ہے لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ایمان جیسی عظیم نعمت کی قدر و قیمت ادا کرنا تو دور کوئی سمجھنے کے لیے بھی تیار نہیں اور اسی لیے سارے پریشان ہیں۔ اللہ قرآن میں فرماتا ہے کہ “” کہ تمھارے ایمان کو آزمائے بغیر تمھیں ایسے ہی جنت مل جائے گی، تمھیں بھی آزمایا جائے گا جیسا کہ تُم سے پہلوں کو آزمایا گیا””
اب ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ عمران خان صاحب یقینی بنائیں کہ ہر سطح پر تیز ترین انصاف ہوتا ہوا نظر آئے اور اِس کام کے لیے ہر سطح پر سخت ترین مانیٹرنگ سسٹم بنانا وقت کی اشد ترین ضرورت اور آخری حل ہے کیونکہ اب صرف تیز ترین عدل انصاف کا نظام ہی وہ واحد طریقہ ہے جو لوگوں میں بڑھتے ہوئے انتشار اور خلجان کو روک سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں