21

مہنگائی کا جن بے قابو

چار نومبر کی وہ ظالم رات جس میں موجودہ حکومت نے ایک دفعہ پھر پیٹرولیم مصنوعات مہنگا کر کے غریب عوام کے اوپر ایک اور بم گرا دیا.غریب لوگوں کا ملک پاکستان میں رہنا مشکل ہو گیا ہے . اے اللہ مزید مہنگائی کا جن بے قابو ہونے سے روک دے . مہنگائی کا بے قابو جن غریبوں کونگل رہا ٗ آسمان کو چھوتی ہوئی مہنگائی، بھوک و افلاس اور انتہائی شدید قسم کے غذائی بحرانوں نے عالمی سطح پر سر اٹھانا شروع کر دیا ہے۔ دُنیا کے متعددممالک میں مہنگائی کے طوفان نے خوفناک صورتحال سے عوام کو دوچار کر دیا ہے۔ مہنگائی کی اس صورتحال نے دہشت ناک منہ کھول رکھا ہے۔ اس خوفناک صورتحال نے پاکستان کو بھی بری طرح اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ چند برسوں میں روز مرہ کے استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔

تعلیم ٗ ادویات ٗ کرایے ٗ روز مرہ کی اشیاء غریب کی دسترس سے بالا تر ہوتی جارہی ہیں۔ نہ صحت ٗ نہ تعلیم ٗ نہ رہائش آخر غریب کے لیے ہے کیا؟ مہنگائی کے باعث کئی افراد خود کشی کرنے پرمجبورہو رہے ہیں۔ ملک کے غریب افراد مجبوراً اپنے گردے فروخت کرتے ہیں جبکہ غربت اورمہنگائی کی وجہ سے کئی والدین نے اپنے بچے فروخت کرنے کا سلسلہ بھی شروع کرنے کے علاوہ غریب والدین نے اپنے بچوں کے گلے پر چھریاں چلا کر ہمیشہ کی نیند سلا رہے ہیں۔
مہنگائی کی اس خوفناک اور دہشت ناک صورتحال کو دیکھ کر مستقبل کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ ملک اور اس کے عوام کس صورتحال سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ عالمی بنک کے مطابق دنیا بھر میں اشیاء خور و نوش کی بڑھتی ہوئی قیمتیں کروڑوں غریب افراد کو مزید غریبی کی گہرائیوں میں دھکیل رہی ہے۔ ان چند برسوں میں روز مرہ کے استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں 200 فیصد تک اضافہ ہوگیا ہے۔ دُنیا بھر میں اس مہنگائی اور غذائی بحران نے کتنے افراد کے دلوں سے خوشیاں اور ہونٹوں سے مسکراہٹیں چھین رہی ہیں۔
عالمی سطح پر مہنگائی کا بول بالا ہے لیکن اگر ہم پاکستان کی بات کریں تو ہمارا ملک پاکستان میں خوردنی اشیا مثلاً سبزی، دالیں، گوشت اور دیگر اشیا کی قیمتیں ساتویں آسمان پر پہنچ گئی ہیں مہنگائی کی سطح عروج پر ہے جو غریب عوام سے کوسوں دور ہے۔ ہماراملک میں مہنگائی نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے معاشرے کا کون سا ایسا طبقہ ہے جو اس کمر توڑ مہنگائی سے براہ راست متاثر نہ ہوا ہو۔ غریب اور مزدور طبقے کی تو بات ہی مت پوچھیے ان کے یہاں تو چولہا جلنا بھی دشوار ہو گیا ہے۔
بھوک، افلاس، فاقہ کشی کا منظر، بھوک سے بلبلاتے بچے اس ناگفتہ صورتحال میں مزید پیٹرول، گیس، بجلی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ بھی عوام کی مشکلات و پریشانی میں اضافے کا باعث بنا ہوا ہے۔ مملکتِ خداداد کی عوام جس صورتحال سے دوچار ہے وہ انتہائی تشویشناک ہے۔ مہنگائی کے منہ زور طوفان نے کئی مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔ پیپرز مہنگا ٗ کئی صنعتیں بند ٗ کچھ شدید مشکلات سے دوچار ٗ اسی باعث کئی افراد بے روزگار ہو ئے ٗ غریب دو وقت کی روٹی کے لیے پریشان۔

یہی وجہ ہے کہ ملک میں خوردنی اشیاء کی قلت اور مہنگائی دن بدن شدت اختیار کرتی جا رہی ہے جس نے غریبوں کا خون تک نچوڑ لیا ہے۔ پا کستا نی معیشت کا اتار چڑھاؤ عدم استحکام کا شکار ہے جو اصل اور بنیادی مسئلہ ہے۔ پٹرول، ڈیزل ۔ گیس اور بجلی کے نرخوں میں اضافہ صرف مہنگائی بڑھنے کا ہی نہیں بلکہ گداگری اور غربت میں اضافے کا بھی دوسرا نام ہے۔ لوگ مہنگائی کے سبب پیٹ کاٹ کاٹ کر جینے پر مجبور ہیں۔ بیشتر گھرانے ایسے ہیں، جہاں مہینے کا اکٹھا سامان لانے کا رواج دن بہ دن ختم ہوتا جا رہا ہے ان لوگوں کا کبھی خیال نہیں ہوتا جو پورا دن فٹ پاتھوں پر بیٹھ کر مزدوری کی تلاش میں رہتے یا جو اعلیٰ تعلیم کے باوجود دس پندرہ ہزا میں کام کرتے۔

اقوام متحدہ کی ایک تازہ رپورٹ کیمطابق ملک میں گزشتہ تین برسوں کے دوران مہنگائی میں دُگنا اضافہ ہوا ہے۔ سب سے زیادہ اضافہ اشیائے خورو نوش کی قیمتوں میں ریکارڈ کیا گیا۔ اور پھر اس مہنگائی کے باعث کئی غربت کے مارے تعلیم سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اب تعلیمی کتابیں کاپیاں دیگر تعلیمی اخراجات والدین کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا۔ اس کے علاوہ خورد و نوش کی اشیاء ادویات مہنگی ہونے سے غریب کی زندگی اجیرن ہو رہی۔
مہنگائی کےباعث کھانے پینے کی چیزوں سمیت دیگر روزمرہ کی اشیا پر بھی پڑھیں گے ۔ آزادی پاکستان کے وقت بہت کم وسائل اور سرمایہ موجود تھا اور ترقی کا عمل بہت سست تھا۔ ملک میں سب سے بڑا مسئلہ غربت کا ہے۔ غربت کی ایک اور وجہ کرپشن ہے، کرپشن کی ہمارے معاشرے میں مختلف اقسام ہیں جس کی وجہ سے نظام کا بنیادی ڈھانچا بیرونی طور پر مضبوط مگر اندرونی ساخت کو دیمک چاٹ چکی ہے، عالمی شماریاتی ادارے کیمطابق پاکستان کرپشن کی فہرست میں 24 ویں نمبرپر ہے۔

کچھ لوگوں کا وسائل پر قبضہ کرنا اور عام مزدور طبقے کو متوسط رکھنا ہے۔ بھاری ٹیکسوں سے کچل کربیروزگاروں کو غربت کی لکیر سے نیچے رہنے پرمجبور کر دیا جاتاہے۔ مزدور طبقہ اور عام آدمی کو بنیادی ضرورتوں سے محروم رکھا جاتا ہے۔ خصوصی طو ر پر صحت و علاج، پانی، انصاف کی فراہمی، مہنگائی، ملازمت، قرضوں کی فراہمی اور تعلیم جیسی بنیادی سہولیات پر بھی عدم دلچسپی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں آپسی تعلقات میں شدت کا عنصر تیزی سے بڑھتا جا رہاہے، ایک دوسرے پر سبقت کی دوڑ میں، ہر شخص اپنے مفاد کی خاطراپنی ضروریات کی تکمیل کے حصول کے لئے انسانی قدروں کو پامال کر رہا ہے، کوئی بھی ایک دوسرے کی مدد کے لئے تیار نہیں ہے، دولت کے نشے نے آخر میں مادی ترجیحات کو انسانیت سے بلند کر دیا ہے، ہمارا اقتصادی نظام تباہ ہوکر رہ گیا ہے۔
اس عمل سے اجارہ داری جنم لے رہی ہے جو کہ معاشرے میں غربت کی ایک اور وجہ ہے، زیادہ تر لوگ آمدنی کے جدید ذریعے سے واقف ہی نہیں، زیادہ تر لوگ جدید ٹیکنالوجی کو اپنے کاروباری ضروریات کے لیے اپنانے کے قابل ہی نہیں ہیں، یہی وجہ ہے کہ کاروبار میں آمدنی کی کمی اور بین الاقومی معیار کے نتائج سامنے نہیں آتے۔ پاکستان کا کاروباری طبقہ محدود ہے، تعلیم کی کمی کے باعث نچلا طبقہ اور مزدور اپنے حقوق سے آگاہ ہی نہیں ہیں۔
حکومت اداروں کو منظم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ حکومت کی جانب سے چلائے جانیوالے اداروں کو غیر ملکی سرمایہ داروں کو بیچا جارہا ہے، مارکیٹ میں مصنوعی قلت پیدا کر کے اشیاء کو مہنگا کردیا جاتا ہے، اجارہ داری کے منصوبوں کے تحت کمیشن لے کر ڈیل کی جاتی ہے اور آخر میں تمام بوجھ صارف کو ہی اٹھانا پڑتا ہے یہی وجہ مہنگائی اور غربت میں مزید اضافے کا باعث بنتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان بے ضابطگیوں کو غور طلب فیصلوں سے حل کیا جائے۔
ملک میں تیزی سے بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے غریب عوام دو وقت کی روٹی سے محروم ہو گئے ہیں ایک جانب کورونا وائرس نے ملک کی معیشت کا بیڑا غرق کردیا ہے تو دوسری طرف مافیا نے اشیاء خوردونوش اور روز مرہ کے استعمال کی اشیاء کو نا جائز طور پر ذخیرہ کر کے مصنوعی بحران پیدا کر د یا ہے جس سے ایک جانب عوام کی قوت خرید شدید متاثر ہو ئی ہے تو دوسری طرف ملک میں آٹے ،چینی ،گھی ،تیل ،سبزیاں،گوشت اور دیگر اشیاء ضروریہ کی قیمتو ں میں دو سو فیصد سے زیادہ اضافہ ہوگیا ہے غریب عوام جن کی محدود آمدنی ہے جبکہ اکثر عوام کورونا وائرس کی وجہ سے بے روزگار ہوگئے ہیں انہیں اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لئے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کبھی چینی اورکبھی آٹے کا بحران پیدا کرکے ان کی قیمتوں کوبڑھادیا جاتا ہے تو کبھی بجلی ،گیس اور پیٹرول کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر نے لگ جاتی ہیں جس سے غریب عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں ۔پاکستان میں چالیس فیصد سے زائد افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں کیونکہ ان کی آمدنی کے ذرائع انتہائی محدود ہیں حکومت مہنگائی اور غربت کے خاتمے کے لئے سوائے زبانی جمع خرچ یا بیانات دینے کے عملی طور پر کچھ نہیں کر رہی۔ جس کی وجہ سے عوام بھی حکومت سے مایوس ہوچکے ہیں ۔آخر میں موجودہ حکومت سے بالخصوص وزیراعظم عمران خان سے دست بدستہ اپیل ہے .کہ خدارا ملک کے غریبوں پر ترس کھا کر اپنی حکمرانی کا فریضہ ادا کرتے ہوئے ملک سے مہنگائی کنٹرول کر کے غریبوں کو ملک پاکستان میں جینے کا حق دیا جائے .یہی غریب طبقہ ہے۔جنہوں نے خواہشات اپنے دل میں رکھ کر آپ کو ووٹ دیا تھا .شاید دیگر حکمرانوں کے نسبت آپ غریبوں کا خیال رکھ سکے .لیکن افسوس آپ نے دیگر حکمرانوں سے بھی بازی لے گئے اور آج ملک کے غریب عوام آپ کو ووٹ دینے کا افسوس کر رہے ہیں .خدارا غریبوں پر ترس کھاتے ہوئے مہنگائی کنٹرول کر کے غریب کو جینے کا حق دیا جائے .

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں