16

ڈی چوک کا عمران خان۔۔۔

تحریر: ایم کثیر رضا بگورو۔

2014 کے وہ دن اور مہنے ابھی تک یاد ہیں جب اسلام آباد کے ڈی چوک میں ایک اداکار کنٹینر کے اوپر چڑھ کے مہنگائی کے خلاف تقاریر کرتے ہوے عوام کو جوش دلا رہا تھا۔۔ کبھی یوٹیلٹی بل جلا رہے تھے تو کبھی بجلی اور گیس کے بل نذر آتش کر کے سامعین سے داد سمیٹ رہے تھے اور ساتھ ساتھ حکومت وقت کو للکارتے ہوے فرماتے تھے اگر ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھ جاے اور ملک میں مہنگائی بڑھ جاے تو سمجھ لینا ملک کا وزیر آعظم چور ہے۔ اور نیچے بیٹھے ہوے تماشہ بین اور TV دیکھنے والے ناظریںن خوب داد دے رہے تھے جیسے کسی مداری کا جادو دیکھ کر تماشہ دیکھنے والے واہ واہ کر رہے ہوتے ہیں۔ عوام کو سبز باغ دکھانے والا وہی ڈی چوک والا اداکار آج خود ملک کا وزیر بن چکا ہے لیکن اس وقت مہنگائی کا بھوت اتنا بے قابو ہوچکا ہے عوام الناس کی آخری سانسیں چل رہی ہے۔ لیکن ملک کا وزیر آعظم پھر بھی صادق اور امین ہے چاہیے لوگ مہنگائی سے مر ہی کیوں جائیں۔ پیٹرول صرف 148 کا ہوچکا ہے آگے کا نہیں پتہ کیا ہونے جارہا ہے چینی صرف 150 کا کلو تک پنچ گیا ہے پھر بھی آپ نے گھبرانا نہیں چونکہ وزیر آعظم صادق اور امین ہے۔ خلیفہ دوم حضرت عمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فرماتے تھے ”اگر میری خلافت کے احاطے میں کوئی کتّا بھی اگر بھوکا مرجاے تو اس کی موت کی زمداری مجھ پہ ہوگی“۔ لیکن ریاست مدینہ کے دعودار وزیرآعظم کے دور میں پتہ نہیں کتنے غریب بھوک اور افلاس سے مر گئے ہونگے نہ جانے انکی موت کی زمداری کس کے سر ہوگی۔ چونکہ ہمارا وزیر آعظم تو صادق اور امین ہے۔ عمران خان صاحب بار بار یہی فرما رہیے ہیں سابقہ حکمرانوں نے ملک کو لوٹ لیا ہے اگر سچ مچ سابقہ حکمرانوں نے ملک کو لوٹ لیا ہے تو ان لٹیروں سے وہ رقم واپس کون لے کر آئیگا موجودہ حکومت تو آپکے ہاتھ میں وزیر آعظم آپ ہے فلحال بھی چونکہ آپکے پاس تو کم و بیش دو سال کا عرصہ رہ گیا ہے دو سال بعد یقیناً آپکی دوبارہ حکومت بنتی نظر نہیں آرہی ہے چونکہ عوام کو وزیر آعظم صادق امین ہو یا چور اسے فرق نہیں پڑتا عوام چاہتے ہیں انکے لئے گھریلو استعمال کی چیزیں سستی ہو باقی جو کچھ بھی ہو اس سے کوئی غرض نہیں ہے۔ آجکل جس طرح روزانہ کی بنیاد پہ جو مہنگائی بڑھ رہی ہے اس سے دیکھ کے اندازہ ہورہا ہے اگلی حکومت کسی دوسری پارٹی کی بنے گی۔ پھر تمھاری طرح وہ بھی تمہیں لٹیرا کہہ دینگے چونکہ سات آٹھ دھائیوں سے یہی چلا آرہا ہے ملک پاک میں ہر آنے والا حکمران جانے والے حکمران کو لٹیرا کہتا ہے لیکن لوٹی گئی دولت واپس کوئی بھی لیکر نہیں آتا ہے۔ اور یہی نعرہ سب سے زیادہ آپکی حکومت میں ہم سن رہیے ہیں توجناب وزیر آعظم صاحب ابھی انتظار کس بات کی ہے لے آو واپس لوٹی ہوئی دولت، کر دو عوام کو خوشحال ورنہ عوام آپکی حکومت کے خلاف بغاوت کرنے پر مجبور ہوجائنگے۔ کہی ایسا تو نہیں جب آپ ان چوروں پہ ہاھ ڈالو گے تو کچھ تمہارے اپنے بھی اس لپیٹ میں آئنگے جو آپ نہیں چاہتے ہیں؟ اگر آپ قوم کو خوش دیکھنا چاہتے ہو تو پھر شروع ہوجاؤ پہلے اپنے آس پاس دیکھنا شروع کریں کہی آپکے ساتھی خود چور تو نہیں ہے اگر ایسا ہے تو سب سے پہلے اپنے ساتھیوں سے جو بدعنوانی میں ملوث ہیں ان سے دولت واپس لے آو اور عوام کو ریلیف دیں۔ عوام کو اپنے ساتھ ملائیں اور قبل از وقت مہنگائی پہ قابو پانے کی کوشش کریں کہی ایسا نہ ہوجاے کہ کل کوئی دوسرا آدمی تمہاری طرح ڈی چوک میں کنٹینر پہ چڑھ کے یہ نہ کہہ دیں ملک میں مہنگائی بڑھ گئ تو سمجھ لینا ملک کا وزیر آعظم چور ہے۔
غریب عوام کا یہی کہنا ہے ڈی چوک کا عمران خان کہا ہے آجکل وہ کنٹینر پہ چڑہ کے مہنگائی کے خلاف آواز کیوں نہیں اٹھا رہا ہے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں