34

قومی اسمبلی،ن لیگ دستورترمیمی بل 2021ء لے آئی، پی ٹی آئی حکومت کوشکست کا سامنا کرنا پڑ گیا

اسلام آباد(نیوزمارٹ ڈیسک) کوئی بھی منتخب رکن سات سال تک دوسری پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کا اہل نہیں ہوگا، ن لیگ دستور ترمیمی بل 2021ء قومی اسمبلی میں بل لے آئی، حکومت کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑ گیا۔قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران مسلم لیگ ن کی جانب سے دستور ترمیمی بل کی قرار داد سیّد جاوید حسنین نے پیش کی۔ حکومت کی طرف سے بل کی مخالفت کی گئی، ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے بل کے خلاف فیصلہ دیا جس کو اپوزیشن نے چیلنج کیا۔قومی اسمبلی میں حکومت کو اپوزیشن نے تاریخی شکست دے دی، اجلاس کے دوران گنتی میں بل پر حکومت کو عددی شکست ہو گئی، بل کے حق میں 117 جبکہ مخالفت میں 104 ووٹ آئے۔ ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے بل متعلقہ کمیٹی کو بھجوادیا۔پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لکھا کہ قومی اسمبلی میں حکومت کو شکست دینے پر متحدہ اپوزیشن کو مبارکباد دیتا ہوں۔ سابق قومی اسمبلی کے سپیکر اور پاکستان مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی ایاز صادق کا کہنا ہے کہ آج حکومت کو بدترین شکست ہوئی ہے، حکومت کو مستعفی ہونا چاہئے۔پاکستان تحریک انصاف کی رکن قومی اسمبلی ملیکہ بخاری نے کہا کہ آئین ہر شخص کو کسی بھی سیاسی جماعت میں شمولیت کا حق دیتا ہے۔پاکستان مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا کہ آج حکومت کو تیاری کے باوجود قومی اسمبلی میں شکت ہوئی، وزیر اعظم نے اجلاس بلایا پھر بھی 104 ووٹ ملے، 117 اپوزیشن کو ملے ہیں، مشترکہ اجلاس کی تیاری مکمل ہے، نیب آرڈینینس اور ای وی ایم قانون سازی کو رکوائیں گے، نیب آرڈیننس آٹا چینی چوروں کو این آر او دینے کے لئے لائے ہیں، ای وی ایم کالا قانون ہے انکو معلوم ہے کے ٹکٹ کے لئے بھی لوگ نہیں ملیں گے، وزیراعظم اجلاس بلائیں، روئیں چیخیں انکے جانے کا وقت ہو چکا ہے۔قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے تقرر کے طریقہ کار تبدیل کرنے کا آئینی ترمیم بل پیش کرنے کی اجازت کی تحریک پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی عبد القادر مندوخیل نے پیش کی۔ اس بل کی حکومت نے مخالفت نہیں کی، جس کے بعد بل کو متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں