22

انتخابی اصلاحات سمیت دیگر معاملات پر اتفاق رائے کے لیے بلایا گیا پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس مؤخر کر دیا گیا

لاہور(نیوزمارٹ ڈیسک) انتخابی اصلاحات سمیت دیگر معاملات پر اتفاق رائے کے لیے بلایا گیا پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس مؤخر کر دیا گیا۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک بیان میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کا کہنا ہے کہ انتخابی اصلاحات ملک کے مستقبل کا معاملہ ہے، ہم نیک نیتی سے کوشش کر رہے ہیں کہ ان معاملات پر اتفاق رائے پیدا ہو، اس سلسلے میں سپیکر اسد قیصر کو اپوزیشن سے ایک بار پھر رابطہ کرنے کا کہا گیا ہے تا کہ ایک متفقہ انتخابی اصلاحات کا بل لایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کو اس مقصد کیلئے موْخر کیا جا رہا ہے۔ ہمیں امید ہے اپوزیشن ان اہم اصلاحات پر سنجیدگی سے غور کرے گی اور ہم پاکستان کے مستقبل کیلئے ایک مشترکہ لائحہ عمل اختیار کر پائیں گے، تاہم ایسا نہ ہونے کی صورت میں ہم اصلاحات سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔گزشتہ روز حکومت کو اسمبلی میں دو بلوں کو متعارف کرانے کی تحریک پر ووٹنگ کے دوران دو بار اپوزیشن کے ہاتھوں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے سب سے پہلے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن جاوید حسنین کی جانب سے سیاست دانوں کو اپنی پارٹیاں تبدیل کرنے سے روکنے کے لیے نجی بل پیش کرنے کی اجازت طلب کرنے کی تحریک پر 104 کے مقابلے 117 ووٹوں سے حکومت کو شکست دی۔اس کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رکن اسمبلی عاصمہ قدیر کی جانب سے خواتین کے خلاف نازیبا ریمارکس دینے والوں کے لیے سزا میں اضافے کے بل پر اپوزیشن نے دوبارہ حکومتی ارکان کو شکست دی۔انتخابی اصلاحات سمیت دیگر معاملات پر اتفاق رائے کے لیے بلایا گیا پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس مؤخر کر دیا گیا، اجلاس ملتوی ہونے کیاا اندورنی کہانی سامنے آ گئی۔پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کے اتحادی بھی الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر مطمئن نہ تھے جس کے باعث اتحادیوں نے ووٹنگ مشین پر تفصیلی بریفنگ کا مطالبہ کر دیا۔اتحادیوں کی طرف سے بلائے گئے ظہرانہ میں صرف وزیراعظم عمران خان نے خطاب کیا۔ وزیر اعظم نے ووٹنگ مشین اور دیگر ایشوز ہر ارکان کو اعتماد میں لیا، کھانے کے بعد اتحادی اور حکومتی سینئر وزرا میں بات چیت ہوئی، اتحادیون نے ای وی ایم پر وقت مانگ لیا۔ اتحادیوں کے وقت مانگنے کے پیش نظر اجلاس موخر کیا گیا۔ذرائع کے مطابق اپوزیشن کے اہم رہنماؤں نے حکومت سے رابطہ کیا اور اپوزیشن انتخابی اصلاحات بل پر حکومت سے بات کرنے پر تیار ہو گئی، اپوزیشن ارکان نے سپیکر آفس اور مشیر پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان سے رابطہ کیا۔ذرائع کے مطابق دو بڑی جماعتوں کے اہم رہنماؤں کی درخواست پر مشترکہ اجلاس ملتوی کیا گیا، اپوزیشن کے رابطہ کرنے پر حکومتی ٹیم نے وزیراعظم عمران خان سے مشاورت کی۔ مشاورتی عمل میں بابر اعوان، اسد عمر اور پرویز خٹک شریک ہوئے، وزیراعظم نے مشترکہ اجلاس ملتوی کرنے پر رضا مندی ظاہر کی، حکومت اور اپوزیشن وفود کی جلد ملاقات ہو گی۔ذرائع کے مطابق مشترکہ اجلاس ملتوی ہونے میں اتحادی جماعتوں کے تحفظات بھی شامل ہیں۔ مسلم لیگ ق، متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) اور گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس (جی ڈی اے) کو بھی الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے معاملے پر تحفظات ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی دفاع پرویز خٹک نے بھی الیکٹرانک ووٹنگ مشین قانون کی مخالفت کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ اتحادی جماعتیں اس بل پر راضی نہیں ہیں۔ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کے ارکان پارلیمنٹ میں بھی ای وی ایم پر اتفاق رائے نہیں، حکومت کو خدشہ تھا کہ مشترکہ اجلاس میں انتخابی اصلاحات بل پاس نہیں ہوسکے گا۔اپنے ایک بیان میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں محمد شہباز شریف نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے التوا پر کہا کہ اپنے ارکان اور اتحادیوں کے عدم اعتماد کے بعد عمران نیازی کو مستعفی ہوجانا چاہئے، مشترکہ اجلاس کو ملتوی کرکے عمران صاحب نے یوٹرن کی اپنی روایت قائم رکھی۔انہوں نے کہا کہ مشترکہ اجلاس ملتوی ہونے کا مطلب ہے کہ کالے قوانین پر حکومت کو شکست ہوچکی ہے۔ مشترکہ اجلاس جلد بازی میں بلانے اور پھر عجلت میں ملتوی کرنے سے حکومت کی غیرسنجیدگی عیاں ہے ، قانون سازی جیسے حساس اور سنجیدہ معاملے کو بچوں کا کھیل بنادیا گیا ہے۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ محسوس ہوتا ہے کہ گزشتہ روز کی شکست نے حکومت کو اجلاس ملتوی کرنے پر مجبور کیا ہے، میدان میں مقابلہ کرنے کے دعوے کرنے والے میدان سے بھاگ گئے۔ٹویٹر پر مریم نواز نے لکھا کہ ابھی ابھی ریجیکٹڈ خان صاحب تقریر جھاڑ رہے تھے کہ اراکین مشترکہ اجلاس میں جہاد سمجھ کر ووٹ کریں۔ تو کیا قوم یہ پوچھ سکتی ہے کہ جہاد اچانک ملتوی کیوں کرنا پڑا؟ ویسے تو قوم سب جانتی ہے مگر پھر بھی پوچھنا تو بنتا ہے!۔اُدھر ترجمان مسلم لیگ ن مریم اورنگزیب نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اچانک ملتوی ہونے پر فواد چودھری پر طنز کیا ہے۔اپنے بیان میں مریم اورنگزیب نے کہا کہ ’بھاگ گئے ! فواد چودھری صاحب ہمت کرکے سچ بولیں، نمبرز پورے نہیں ہوئے، اتحادی تو کیا اپنے ارکان بھی ووٹ دینے کو تیار نہیں، ڈوبتی کشتی سے چھلانگیں لگانے کا آپ کا وقت ہوا چاہتا ہے۔‘مریم اورنگزیب نے سوال کیا کہ اپوزیشن سے بات چیت اور اتفاق رائے کی بات پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کے بعد یاد آئی ہے؟مزید برآں پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل جاوید خان نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کامشترکہ اجلاس جلدطلب کیاجائےگا۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے سینیٹر فیصل جاوید خان نے کہا کہ آج وزیراعظم نےسینیٹ کے تمام پی ٹی آئی اور اتحادی اراکین سے ملاقات کی ، وزیراعظم نےانتخابی اصلاحات کے حوالے سے سب کواعتماد میں لیا جبکہ تمام اراکین نے وزیراعظم کو پرزور حمایت کا یقین دلایا ہے۔فیصل جاوید نے مزید لکھا کہ آنیوالےدنوں میں انتخابی اصلاحات کا بل بھرپور حمایت کے ساتھ پاس کیا جائے گا، وزیراعظم نےایک بار پھر کھلے دل کا مظاہرہ کیا ، اپوزیشن کو ایک بارپھرانتخابی اصلاحات پرمشاورت کاموقع دیا۔ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن بتائےالیکٹرانک ووٹنگ میں کیا خرابی ہے، نشاندھی کریں، پارلیمان کامشترکہ اجلاس جلدطلب کیاجائےگا جبکہ اوورسیزپاکستانیوں کوانٹرنیٹ ووٹنگ کاحق بھی دیا جائیگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں