16

تیل کی قیمتیں مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔امدادی پیکیج لا رہے ہیں،عمران خان

اسلام آباد(نیوزمارٹ ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت نے مشکل حالات میں مشکل فیصلے کئے۔ میٹرو پر اربوں روپے لگانے سے قوم ترقی نہیں کرتی۔ تیل کی قیمتیں مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔موجودہ حکومت نے برے حالات میں ملک کو سنبھالا۔ کورونا کے باعث باہر سے آنے والی مہنگائی صرف سردیوں تک ہے، تیل سمیت باہر سے جو چیزیں لیتے ہیں وہ سب مہنگی ہو گئی ہیں۔ غربت وہاں ہوتی ہے جہاں پیسے چوری کر کے باہر جاتا ہے آنے والے دنوں میں بہت بڑا پیکیج لیکر آرہے ہیں۔ منگل کو للہہ جہلم روڈ کیرج وے کے سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ آنے والے الیکشن کے بارے میں سوچنے سے ملک ترقی نہیں کرتا، چین کی ترقی کا راز طویل المدتی منصوبہ بندی ہے، مجھے فخر ہے کہ ہم نے ملکی ترقی میں الیکشن کا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کا سوچا، ساری دنیا کے اندر ٹیکنالوجی کا استعمال ہورہا ہے، کئی ملک اپنے انتخابات الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے کرارہے ہیں تاکہ شفاف عمل ہو لیکن مجھے حیرت ہے کہ ہماری اپوزیشن کو مشین سے کیوں ڈر لگ رہا ہے۔ حیران ہوں! اپوزیشن ٹیکنالوجی کا استعمال کیوں نہیں کرتی، اپوزیشن وونٹنگ کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی کیوں مخالف ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر زرعی پیداوار بڑھانا ہو گی، ملک آگے تب بڑھتاہے جب آنے والی نسلوں کا سوچا جاتا ہے، موجودہ حکومت نے سب سے زیادہ قرض واپس کیا، آبادی بڑھ رہی ہے ملک کو پانی کی ضرورت ہے۔ 50 سال بعد ملک میں تین بڑے ڈیم بن رہے ہیں، آئندہ دس سال میں مزید دس ڈیم بنائیں گے۔ ہمیں ملک میں لانگ ٹرم پالیسی کی ضرورت ہے۔ موجودہ حکومت نے سب سے زیادہ قرض واپس کیا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان میں غربت کم ہوئی ہے، پوری دنیا میں مہنگائی کی لہر ہے، لندن بیٹھا شخص دکھ کا اظہار کرتا ہے کہ پاکستان کے حالات برے ہیں، انشاءاللہ ہم لوگوں کو مہنگائی سے باہر نکالیں گے ان کا کہنا تھا کہ چائنہ کی ترقی کا راز ہے کہ انہوں نے پائیدار ترقی کے بارے میں سوچا، سب سے پہلے انہوں نے غربت ختم کی اور پھر ترقیاتی منصوبے تشکیل دیئے، ایسا نہیں ہوتا کہ اربوں روپے مالیت کی میٹرو بنا کر سوچا جائے کہ میں الیکشن جیت جاو¿ں گا، قوم ایسے آگے نہیں بڑھتی۔ عمران خان نے خبردار کیا کہ ملکی ترقی میں نمایاں کردار پانی کا بھی ہے، زمین موجود ہے لیکن پانی کی قلت کے باعث کئی مسائل جنم لے رہے ہیں، جس میں قابل ذکر نقصان زراعت کو ہورہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ قلت آب کی کمی کو پورا کرنے کے لئے گزشتہ 50 برس میں پہلی مرتبہ 3 بڑے ڈیمز بن رہے ہیں اور آئندہ 10 برس میں 10 ڈیمز بنیں گے، ان ڈیمز کی پلاننگ 40 سال پہلے ہوئی تھی۔انہوں نے کہا کہ جب ہم نے درخت لگانے کے منصوبے متعارف کرائے تو ہمارا مزاق اڑایا گیا، سابق حکومتوں میں جنگلات ختم کردیے گئے، نیشنل پارکس نہیں بنائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ فواد چودھری نے جس جنون کے ساتھ جہلم کی جنگ لڑی ہے اس پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ یہ وہ دور ہے کہ کس نے کیا کام کیا، موبائل فون پر باآسانی معلومات دستیاب ہے، کیا ملک میں بیرونی خسارہ سب سے بڑا تھا، باآسانی انٹرنیٹ پر جواب مل جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں