18

پاکستانی نژاد امریکی وجیہہ قتل کیس میں اہم پیشرفت،تفتیشی افسر نے عدالت کو بڑی بات بتا دی

اسلام آباد(نیوزمارٹ ڈیسک)راولپنڈی سول جج جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت نے اغوا کے بعد قتل ہونے والی پاکستانی نژاد امریکی خاتون وجیہہ فاروق سواتی کے مقدمہ میں نامزد اس کے شوہر سمیت 3 ملزموں کے جسمانی ریمانڈ میں 3یوم کی توسیع کر دی۔ تفصیلات کے مطابق پولیس نے امریکی خاتون وجیہہ سواتی قتل کیس میں گرفتار مقتولہ کے شوہر رضوان حبیب،اس کے والد حریت اللہ بنگش اور ذاتی ملازم و سلطان خان کو حفاظتی حصار میں ڈیوٹی مجسٹریٹ، سول جج طارق خان کی عدالت میں پیش کیا۔ اس موقع پر مقتولہ کی وکیل شبنم نواز بھی عدالت میں موجود تھیں۔عدالت نے کیس کی سماعت یکم جنوری تک ملتوی کردی،مقتولہ کی وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پہلے ملزموں کو اغوا کے مقدمہ میں گرفتار کیا گیا لیکن چونکہ مرکزی ملزم نے گرفتاری کے بعد قتل کا اعتراف بھی کیا ہے لہٰذامقدمہ کی نوعیت تبدیل ہو گئی ہے،تفتیشی افسر نے بھی عدالت سے استدعاکی کہ ملزموں سے آلہ قتل، لاش کو ہنگو منتقل کرنے کے لئے استعمال کی گئی گاڑی کی برآمدگی کے علاوہ لاش کی منتقلی کے دوران سہولت فراہم کرنے والے ملزموں کے بارے میں معلومات حاصل کرنا ہیں جبکہ ملزموں سے مقتولہ کی قبر کھودنے والے افراد کے بارے میں بھی تفتیش کرنا ہے لہٰذا ملزموں کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی جائے۔اس کے بعد عدالت نے ملزموں کا 3 یوم کا جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے ہدایت کی کہ ملزموں کویکم جنوری کو دوبارہ عدالت میں پیش کر کے تحقیقات میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا جائے۔ مقتولہ کے شوہر مرکزی ملزم رضوان حبیب کے والد حریت اللہ بنگش نے اپنے بیٹے کے ملازم اور مقدمہ کے شریک ملزم سلطان خان کی والدہ سے دوسری شادی کر رکھی ہے اور ملزموں نے پارہ چنار اور ڈیرہ اسماعیل خان کے درمیان پیزو کے مقام پر سلطان خان کے گھر گڑھا کھود کر مقتولہ کی لاش اس گڑھے میں دبا رکھی تھی جس کے تمام ثبوت موجود ہیں۔ تھانہ مورگاہ پولیس نے وجیہہ سواتی کے اغوا کے الزام میں رواں سال 2 نومبرکو مغویہ کے بیٹے عبداللہ مہدی کی مدعیت میں دفعہ365 کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں